عالمی ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق کیس میں پاکستان کے مؤقف کے حق میں فیصلہ سنا دیا ہے۔
عدالت نے قرار دیا ہے کہ پاکستان کا مؤقف انصاف پر مبنی ہے اور 1960 کا سندھ طاس معاہدہ بدستور قانونی طور پر نافذ العمل ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی فریق کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے، بلاول بھٹو زرداری
عدالت کے مطابق سندھ طاس معاہدہ ایک مستقل بین الاقوامی ذمہ داری ہے اور اس کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی قوانین کے تحت قابل قبول نہیں۔
دوسری جانب بھارت نے عدالتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اپنے مؤقف پر قائم رہنے کا اظہار کیا ہے۔





