تحریک تحفظ آئین پاکستان کا ملک بھر میں احتجاج کا اعلان

اسلام آباد: تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت کا ایک اہم سربراہی اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت تحریک کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کی۔

اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کے متعدد اہم رہنماؤں نے شرکت کی جن میں قائد حزب اختلاف سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سیکرٹری جنرل اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ، سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے سربراہ زین شاہ، مصطفیٰ نواز کھوکھر، بی این پی کے ساجد ترین، سنی اتحاد کونسل کے قائم مقام چیئرمین صاحبزادہ حسن رضا، ملک عامر ڈوگر، حلیم عادل شیخ، علی وڑائچ، سینیٹر مشتاق احمد خان، عمار علی جان اور دیگر شامل تھے۔ اجلاس میں معروف قانون دان چوہدری اعتزاز احسن نے بھی خصوصی شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں : خلیجی قیادت کی درخواست پر امریکا نے ایران پر حملہ معطل کردیا

اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی، معاشی اور سماجی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔ شرکاء نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

اجلاس میں کہا گیا کہ حکومت گورننس، امن و امان اور عوامی مسائل کے حل میں ناکام ہو چکی ہے۔ شرکاء کے مطابق ملک میں 18 سے 18 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ جاری ہے، جبکہ کسان اور مزدور طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہے، اور تنخواہ دار طبقہ مہنگائی کا سب سے زیادہ بوجھ برداشت کر رہا ہے۔

اجلاس میں اس خدشے کا اظہار بھی کیا گیا کہ آنے والا بجٹ آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق ہوگا، جس سے عوام پر مزید مالی دباؤ بڑھے گا۔

سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مبینہ غیر آئینی اور غیر قانونی سلوک کی سخت مذمت کی گئی۔ شرکاء نے سابق وزیراعظم عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

اجلاس میں عمران خان کی صحت سے متعلق خبروں پر بھی تشویش ظاہر کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جائے، جبکہ ان کے اہل خانہ اور سیاسی ساتھیوں کو ملاقات کی اجازت دی جائے۔ اسی طرح تمام سیاسی قیدیوں کے ساتھ جیلوں میں مبینہ غیر انسانی سلوک کی بھی مذمت کی گئی۔

اجلاس میں سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور علی وزیر سمیت دیگر قید سیاسی رہنماؤں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : بیرون ملک سفر کے لیے اہم دستاویزات لازمی قرار، نئی ہدایات جاری

مزید برآں، اجلاس میں وزیرستان میں احمد زئی کی شہادت پر افسوس اور دکھ کا اظہار کیا گیا اور صوبوں کے آئینی حقوق کے تحفظ پر زور دیا گیا۔

آخر میں اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ جمعہ کے روز ملک بھر میں ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔ احتجاج مہنگائی، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے، ملک میں مبینہ لاقانونیت، عمران خان کی فوری ہسپتال منتقلی اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کے مطالبات کے حق میں ہوگا۔ اس سلسلے میں ملک کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔

اجلاس کے شرکاء نے کہا کہ فارم 47 پر مبنی حکومت کی جانب سے قانون سازی کو غیر قانونی سمجھا جاتا ہے اور ملک اس وقت سنگین بحرانوں سے دوچار ہے۔

رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئین، جمہوریت اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد ہر سطح پر جاری رکھی جائے گی۔

Scroll to Top