پشاور: بینک ڈکیتیوں اور قتل کے مقدمات میں مطلوب ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک

پشاور: پشاور کے علاقے نادرن بائی پاس کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے پولیس موبائل پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں زیرِ حراست تین خطرناک ملزم ہلاک ہو گئے جبکہ ایس ایچ او اور دیگر اہلکار بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔

سی سی پی او پشاور میاں سعید کے مطابق تھانہ مچنی گیٹ کی پولیس ٹیم بینک ڈکیتی کے سنگین مقدمات میں ملوث ملزمان محمد شعیب، محمد عمر اور محمد عماد کو واردات کے مقام کی نشاندہی کے لیے لے جا رہی تھی کہ موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے اپنے ساتھیوں کو چھڑوانے کی نیت سے حملہ کر دیا۔

فائرنگ کے اس تبادلے میں پولیس کی سرکاری گاڑی کو شدید نقصان پہنچا، تاہم اہلکار ہیلمٹ اور بلٹ پروف جیکٹ کے باعث بچ نکلنے میں کامیاب رہے، جبکہ پولیس کی تحویل میں موجود تینوں ملزم گولیوں کی زد میں آ کر موقع پر ہی دم توڑ گئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ملزمان کا تعلق ایک منظم گینگ سے تھا جو ایڈیشنل ایس ایچ او بہار علی کی شہادت اور بینک ڈکیتیوں سمیت قتل و اقدامِ قتل کی متعدد سنگین وارداتوں میں مطلوب تھے۔

یہ بھی پڑھیں : جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما میاں مقصود احمد انتقال کر گئے

واقعے کے فوراً بعد ایس پی ورسک محمد ارشد خان بھاری نفری کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے۔

ملزمان کی نشاندہی پر وارداتوں میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔ پولیس کی جانب سے فرار ہونے والے حملہ آوروں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے اور شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ مزید سخت کر دی گئی ہے۔

Scroll to Top