بجٹ میں موبائل سروسز پر ٹیکسز کم کرنے کی سفارش

آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کے لیے وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) نے موبائل اور انٹرنیٹ سروسز پر عائد بھاری ٹیکسوں میں کمی کے لیے حکومت کو اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

اس اقدام کا مقصد ملک کے کروڑوں صارفین کو مالی ریلیف فراہم کرنا اور ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کے تحت انٹرنیٹ سہولیات کا دائرہ کار وسیع کرنا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزارتِ آئی ٹی کی جانب سے وزارتِ خزانہ کو باقاعدہ بجٹ تجاویز ارسال کی گئی ہیں، جن میں موبائل صارفین پر لاگو 15 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس (WHT) اور 19.5 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (GST) کو مرحلہ وار کم کرنے کی مہم سفارش شامل ہے۔

وزارت کا مؤقف ہے کہ ٹیکسوں کے بوجھ میں کمی سے عام آدمی کے لیے انٹرنیٹ اور موبائل تک رسائی سستی ہوگی، جس سے آن لائن تعلیم، ڈیجیٹل بزنس اور دیگر ای-خدمات کو فروغ ملے گا۔

یہ بھی پڑھیں : بجٹ27-2026, ملازمین کی تنخواہوں میں کتنا اضافہ ہوگا؟ تفصیلات سامنے آگئیں

ان تجاویز میں صرف صارفین ہی نہیں بلکہ ٹیلی کام انڈسٹری کے لیے بھی ریلیف مانگا گیا ہے۔ بجٹ سفارشات میں براڈ بینڈ آلات اور ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی درآمد پر عائد ڈیوٹیز کو کم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

وزارت کا کہنا ہے کہ نیٹ ورک آلات سستے ہونے سے ٹیلی کام کمپنیاں اپنے نیٹ ورک کو اپ گریڈ کرنے اور دور دراز علاقوں تک سروسز پہنچانے کے لیے زیادہ سرمایہ کاری کر سکیں گی۔

مزید برآں، وزارتِ آئی ٹی نے ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنے اور جدید ٹیکنالوجی کو تیزی سے متعارف کرانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

یاد رہے کہ ٹیلی کام انڈسٹری طویل عرصے سے حکومت سے ٹیکسوں میں نرمی کا مطالبہ کر رہی ہے اور ماہرین کے مطابق ان تجاویز پر عملدرآمد ملک کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔

Scroll to Top