بجٹ 2026-27 نے سب کچھ بدل دیا! دودھ، گھی اور روزمرہ اشیاء پر ٹیکس عائد، عوام پر اربوں کا اضافی بوجھ بڑھ گیا

بجٹ 2026-27 نے سب کچھ بدل دیا! دودھ، گھی اور روزمرہ اشیاء پر ٹیکس عائد، عوام پر اربوں کا اضافی بوجھ بڑھ گیا

وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں وسیع پیمانے پر ٹیکس اصلاحات اور نئے ریونیو اقدامات متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت روزمرہ استعمال کی متعدد اشیاء مہنگی ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق بجٹ میں ریٹیل پیکنگ میں فروخت ہونے والی سینکڑوں اشیاء پر سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز اور منظوری دی گئی ہے۔ ان میں دودھ، بچوں کا فارمولا ملک، گھی اور دودھ سے بنی دیگر مصنوعات شامل ہیں۔

اسی طرح خوردنی تیل، مٹھائیاں، پاستا، مختلف ساسز، جیمز، فروٹ جوسز اور دیگر مشروبات پر بھی 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) عائد کرنے کی تجویز شامل ہے، جس سے گھریلو بجٹ پر براہِ راست اثر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق زرعی ادویات، جراثیم کش مصنوعات، پلاسٹک کی گھریلو اشیاء، کچن ویئر اور اسٹوریج آئٹمز پر بھی ٹیکس لاگو کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بیگز، سوٹ کیس، ہینڈ بیگز اور دیگر سفری سامان بھی مہنگا ہونے کا امکان ہے جبکہ تمام قسم کے جوتے بھی سیلز ٹیکس کے دائرہ کار میں شامل کر دیے گئے ہیں۔

باتھ روم فٹنگز، سینٹری ویئر، واش روم لوازمات اور کراکری سمیت گھریلو استعمال کی متعدد اشیاء پر بھی سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق گاڑیوں اور آٹو موبائل لوازمات کی ریٹیل فروخت پر بھی ٹیکس نافذ کیا جا رہا ہے، جبکہ 2 سے 3 کروڑ روپے مالیت کی لگژری ایس یو وی گاڑیوں پر 30 فیصد اور 3 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی گاڑیوں پر 40 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز شامل ہے۔

نان رجسٹرڈ سپلائرز سے خریداری پر 5 فیصد اضافی ٹیکس اور ڈسٹری بیوٹرز پر ٹیکس کی شرح 0.25 فیصد سے بڑھا کر 0.50 فیصد کرنے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہے۔ خام مال درآمد کر کے فروخت کرنے والے کمرشل امپورٹرز پر 3 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
دستاویزات کے مطابق 10 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی جائیداد خریدنے والوں کے لیے ذرائع آمدن ظاہر کرنا لازمی قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ ذرائع آمدن ظاہر نہ ہونے کی صورت میں خریداری ممکن نہیں ہوگی۔ یہ قانون یکم جولائی 2026 سے نافذ ہونے کا امکان ہے۔

اسی طرح پراپرٹی کی خرید و فروخت کرنے والے نان فائلرز پر اضافی ٹیکس برقرار رکھنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

دوسری جانب حکومت نے بیرون ملک فضائی سفر پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں نمایاں کمی کی تجویز دی ہے۔ تجویز کے مطابق امریکہ کے لیے بزنس کلاس ٹکٹ پر ڈیوٹی 3 لاکھ 50 ہزار روپے سے کم کر کے 50 ہزار روپے، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے لیے 1 لاکھ 5 ہزار روپے سے کم کر کے 25 ہزار روپے جبکہ یورپ کے لیے 2 لاکھ 10 ہزار روپے سے کم کر کے 40 ہزار روپے کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق بجٹ کے ان اقدامات سے ایک جانب حکومت کی آمدن میں اضافہ ہوگا، جبکہ دوسری جانب عام صارفین پر مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

Scroll to Top