اسلام آباد ہائی کورٹ نے جعلی تعلیمی اسناد کی بنیاد پر سرکاری ملازمت حاصل کرنے والے گریڈ 19 کے افسر کی انٹراکورٹ اپیل مسترد کرتے ہوئے ان کی برطرفی کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔
عدالت نے برطرف افسر کو دورانِ ملازمت حاصل کی گئی تمام تنخواہیں اور مراعات واپس کرنے کا حکم دیتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو فوجداری کارروائی کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
جسٹس محمد اعظم خان اور جسٹس انعام امین منہاس پر مشتمل ڈویژنل بینچ کی جانب سے جاری تحریری فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ وسیم افضل جعلسازی اور فراڈ کے مرتکب ہوئے ہیں۔ عدالت کے مطابق مذکورہ ملازم نے بی اے اور ایم بی اے کی اسناد دھوکا دہی کے ذریعے حاصل کیں اور انہی جعلی ڈگریوں کو بنیاد بنا کر سرکاری ملازمتیں حاصل کیں۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق وسیم افضل نے 1993 میں جعلی ڈگری کی بنیاد پر ایس ایم ای بینک میں ملازمت حاصل کی تھی اور بعد ازاں 2009 میں گولڈن ہینڈ شیک اسکیم کے تحت ملازمت سے دستبردار ہو گئے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے 2011 میں انہی جعلی اسناد کا دوبارہ استعمال کرتے ہوئے وزارت محنت و افرادی قوت (جو بعد میں وزارت اوورسیز پاکستانیز بنی) میں گریڈ 19 کی اہم ترین سرکاری ملازمت حاصل کی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس سے قبل 2017 میں ہی وسیم افضل کی ڈگریوں کو جعلی قرار دیتے ہوئے انہیں ملازمت سے برطرف کرنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد وزارت اوورسیز پاکستانیز نے ان کی برطرفی اور سرکاری مراعات کی واپسی کے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیے تھے۔
یہ بھی پڑھیں : ایس ایم ای سیکٹر معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، بینک قرضوں کی فراہمی میں اضافہ کریں، وزیراعظم شہباز شریف
عدالت عالیہ کے حالیہ فیصلے کی روشنی میں وزارت نے اب ایف آئی اے کو بھی ملزم کے خلاف سخت قانونی کارروائی شروع کرنے کی باقاعدہ ہدایت کر دی ہے۔





