امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے حمایت یافتہ امریکی سینیٹرز نے ایک نئی تجویز پیش کی ہے جس کے تحت روس سے خام تیل خریدنے پر بھارت پر 100 فیصد تک ٹیرف یعنی درآمدی ٹیکس عائد کیا جا سکتا ہے۔
واشنگٹن میں روس پر پابندیوں کے حوالے سے منعقدہ پریس بریفنگ میں امریکی سینیٹرز نے اس قانون سازی کی تفصیلات کا اعلان کیا۔
سینیٹرز کے مطابق یہ ٹیرف انتہائی ہدف شدہ ہوں گے جن کا دائرہ کار صرف ان پانچ بڑے ممالک تک محدود رکھا جائے گا جو روس سے سب سے زیادہ تیل خرید رہے ہیں۔
ان پانچ ممالک میں چین، بھارت، سلوواکیہ، ہنگری اور آذربائیجان شامل ہیں۔ اس بل کے تحت امریکی انتظامیہ کو مخصوص حالات میں ان ٹیرف میں چھوٹ دینے کا انتہائی محدود اور سخت اختیار حاصل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں : بھارتی ادارے اپنے حساس ترین اثاثوں کی حفاظت میں ناکام، سب سے بڑے نیوکلیئر پاور پلانٹ کا ڈیٹا ہیک، دستاویزات ڈارک ویب پر لیک
روسی گیس کی خریداری کے حوالے سے بل میں ان خریداروں کے لیے استثنیٰ رکھا گیا ہے جو روس سے مجموعی گیس کا 15 فیصد سے کم حصہ خرید رہے ہیں اور اس انحصار کو کم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہے ہیں۔
سینیٹرز کا کہنا ہے کہ اس نرمی کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ امریکہ کے یورپی اتحادی ممالک ان معاشی پابندیوں کی زد میں نہ آئیں۔





