حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں غیر قانونی بھرتیوں کا معاملہ، ہسپتال ڈائریکٹر کا سیکرٹری ہیلتھ اور اینٹی کرپشن کو خط، انکوائری کا مطالبہ

حیات آباد میڈیکل کمپلیکس (ایچ ایم سی) پشاور میں ڈائریکٹر فنانس سمیت اہم عہدوں پر مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کا بڑا اسکینڈل سامنے آ گیا ہے۔

 ڈائریکٹرایچ ایم سی نے سیکرٹری ہیلتھ خیبر پختونخوا اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کرائمز اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو ایک باقاعدہ مراسلہ ارسال کر دیا ہے جس کی کاپی ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے آفیشل ایکس اکاونٹ پر بھی جاری کی گئی ہے۔

خط میں ہسپتال ڈائریکٹر نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایم ٹی آئی ایچ ایم سی کے ( بی او جی) کے چیئرمین ڈاکٹرنور الایمان کے دور میں ڈائریکٹر فنانس، چیف انٹرنل آڈیٹر، ڈائریکٹر سپلائی چین اور کنسلٹنٹس سمیت دیگر سینئر عہدوں پر بھرتیوں میں شدید بے ضابطگیاں اور بدعنوانیاں کی گئی ہیں۔

انہوں نے سیکرٹری ہیلتھ سے درخواست کی ہے کہ جنوری 2026 سے لے کر اب تک کی جانے والی تمام بھرتیوں کی شفاف، غیر جانبدارانہ اور آزادانہ انکوائری کرائی جائے اور اس سلسلے میں ہر قسم کے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : کفایت شعاری کا راگ الاپنے والی خیبرپختونخواحکومت کی کابینہ 50سے تجاوز کر گئی،سینئر صحافی عرفان خان

دوسری جانب ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کچھ عرصہ قبل ایک پریس کانفرنس کے ذریعے ان غیر قانونی بھرتیوں کا معاملہ اٹھایا گیا تھا اور حکومت کو آگاہ کیا تھا جس پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے فوری انکوائری کا حکم دیا تھا تاہم وہ انکوائری آج تک عمل میں نہ آ سکی۔ خط کی کاپیاں وزیراعلیٰ، وزیر صحت، چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا اور ڈی جی نیب کو بھی ارسال کر دی گئی ہیں۔

Scroll to Top