شاہد جان
؎وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے آبائی ضلع خیبر کے سرکاری اسکولوں میں مختلف کیڈرز میں اساتذہ کی 465 آسامیاں خالی ہیں جن میں 179 مرد اور 286 خواتین اساتذہ کی آسامیاں شامل ہیں۔
خیبر پختونخوا اسمبلی میں جمع کرائے گئےاعدادشمار کے مطابق ضلع خیبر میں سرکاری اسکولوں کی مجموعی تعداد 745 ہے جن میں 403 پرائمری جبکہ 342 مڈل، ہائی و ہائیر سیکنڈری اسکول شامل ہیں۔ ضلع بھر میں تعینات اساتذہ کی مجموعی تعداد 2,317 ہے، جن میں 1,524 مرد اور 793 خواتین اساتذہ شامل ہیں جبکہ 465 آسامیاں خالی پڑی ہیں۔
دستاویز کے مطابق موجودہ حکومت کی اولین ترجیح تعلیم کو عام کرنا اور ہر ضلعے میں تعلیمی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ اسکولوں کی رنگ و روغن، مرمت، چاردیواری کی تعمیر، پانی کی فراہمی اور دیگر بنیادی سہولیات کی کمی پورا کرنے کے لیے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم نے باقاعدہ ہدایات جاری کر دی ہیںجبکہ سیکرٹری تعلیم تمام ڈی ای اوز (DEOs) کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔
دستاویز کے مطابق تعلیم کا معیار بلند کرنے اور مقامی سطح پر اعلیٰ تعلیم کی فراہمی کے لیے نئے اسکولوں کی منظوری اور معیار پر پورا اترنے والے موجودہ اسکولوں کی اپ گریڈیشن کی جا رہی ہے۔ رواں سال ضلع خیبر کے لیے ڈرافٹ اے ڈی پی (ADP) میں لڑکوں کے لیے 25 اور لڑکیوں کے لیے 43 نئے پرائمری اسکول شامل کیے گئے ہیں۔
اسی طرح پرائمری سے مڈل کی سطح پر اپ گریڈیشن کے لیے لڑکوں کے 29 اور لڑکیوں کے 67 اسکول شامل کیے گئے ہیںجبکہ مڈل سے ہائی اسکول کی سطح پر 9 بوائز اور 10 گرلز اسکول شامل ہیں۔ ہائی سے ہائیر سیکنڈری کی سطح پر اپ گریڈیشن کے لیے 5 بوائز اور 4 گرلز اسکول شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا کابینہ میں مزید توسیع، 23 پارلیمانی سیکرٹریز کا نوٹیفکیشن جاری، تعداد 53 ہوگئی
دستاویز کے مطابق اس طرح کل 68 نئے پرائمری اسکولوں کی منظوری اور 124 بوائز و گرلز اسکولوں کی اپ گریڈیشن شامل ہے جس سے ضلع خیبر میں اسکولوں کی کمی پر کافی حد تک قابو پا لیا جائے گا۔





