ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی تیل مارکیٹ پر نمایاں ہونے لگے ہیں، جہاں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
ایران پر امریکا کے مسلسل حملوں کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے سبب تیل کی سپلائی متاثر ہونے اور قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان موجود ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق برینٹ کروڈ کی قیمت میں 1.1 فیصد، یعنی ایک ڈالر فی بیرل اضافہ ہوا، جس کے بعد اس کی قیمت 92.01 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اسی طرح امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت میں بھی ایک فیصد، یعنی 82 سینٹ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد یہ 85.16 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہوا۔
ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی نے عالمی توانائی منڈی میں بے یقینی کی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں قیمتیں مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دنیا بھر میں ایندھن، ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، جس سے مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔





