جن کے نام پر گھر نہیں، ان کیلئے حکومت کا بڑا تحفہ! اہم اعلان کر دیا

جن کے نام پر گھر نہیں، ان کیلئے حکومت کا بڑا تحفہ! اہم اعلان کر دیا

اسکیم کا مقصد متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں کیلئے ذاتی گھر کا خواب حقیقت بنانا، ملک میں ہاؤسنگ کی کمی کو کم کرنا اور تعمیراتی شعبے کو فروغ دے کر معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت پہلی بار گھر خریدنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی خوشخبری سامنے آگئی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کمرشل اور مائیکروفنانس بینکوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ جن پاکستانی شہریوں کے نام پر پہلے سے کوئی رہائشی مکان موجود نہیں، انہیں وزیراعظم کی سبسڈی یافتہ ہاؤسنگ فنانس اسکیم کے تحت ترجیحی بنیادوں پر قرض فراہم کیا جائے۔

اس اسکیم کا مقصد ملک میں ایک کروڑ سے زائد گھروں کی کمی کو مرحلہ وار پورا کرنا، متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کو ذاتی گھر کی سہولت فراہم کرنا اور تعمیراتی شعبے کو فروغ دینا ہے۔

یہ اعلان اسٹیٹ بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اسلامک فنانس گروپ غلام محمد عباسی نے “وزیراعظم اپنا گھر پروگرام، گھر ہو تو اپنا” کے عنوان سے منعقدہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے تمام بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ اہل شہریوں کو آسان شرائط پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جائے تاکہ عام آدمی کے لیے اپنا گھر حاصل کرنا ممکن بنایا جا سکے۔

کون درخواست دے سکتا ہے؟
غلام محمد عباسی کے مطابق اس اسکیم کے تحت 65 سال تک عمر رکھنے والے افراد قرض کے لیے درخواست دینے کے اہل ہوں گے۔ اگر کسی درخواست گزار کی عمر اس سے زیادہ ہو تو وہ اپنے بچوں یا خاندان کے دیگر ملازمت پیشہ افراد کے ساتھ مشترکہ درخواست دے سکتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اسکیم میں کسی بھی پیشے سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے کوئی پابندی نہیں رکھی گئی۔ صحافی، وکلا، ججز، اساتذہ، سرکاری ملازمین، فوجی اہلکار، نجی اداروں کے ملازمین، کاروباری افراد، مزدور اور دیگر تمام شعبوں سے وابستہ افراد اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کے نام پر پہلے سے کوئی ذاتی گھر موجود نہ ہو۔

اوورسیز پاکستانی بھی اہل
اسٹیٹ بینک کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت ہاؤسنگ فنانس حاصل کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ ایک قرض کے لیے زیادہ سے زیادہ چار افراد مشترکہ طور پر درخواست دے سکتے ہیں، جس سے قرض کی ادائیگی کی صلاحیت بہتر ثابت ہوگی اور زیادہ خاندان اس سہولت سے مستفید ہو سکیں گے۔

آمدنی اور قسط سے متعلق شرائط
غلام محمد عباسی نے بتایا کہ اسکیم میں تنخواہ دار اور بغیر تنخواہ سلپ رکھنے والے دونوں طرح کے افراد درخواست دے سکتے ہیں۔ ماہانہ آمدنی کی کوئی مخصوص حد مقرر نہیں کی گئی، تاہم قرض کی منظوری درخواست گزار کی مالی استطاعت اور ادائیگی کی صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے دی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ قرض کی ماہانہ قسط درخواست گزار کی مجموعی ماہانہ آمدنی کے 65 فیصد سے زیادہ نہیں ہوگی، جبکہ اضافی ذرائع آمدن کو بھی قرض کی منظوری کے وقت مدنظر رکھا جائے گا۔

سبسڈی، قرض کی حد اور منافع کی شرح
اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 2026-27 کے دوران ڈیڑھ لاکھ (150 ہزار) ہاؤسنگ قرضے جاری کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ حکومت نے اس مقصد کے لیے 71 ارب روپے کی سبسڈی مختص کی ہے۔

غلام محمد عباسی نے بتایا کہ اسکیم میں کی گئی اہم تبدیلیوں کے تحت:
زیادہ سے زیادہ قرض کی حد ایک کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے۔
پہلے 10 سال تک صرف 5 فیصد رعایتی شرح منافع وصول کی جائے گی۔
اگر قرض کی مدت 20 سال ہوگی تو آخری 10 برس کے لیے مارکیٹ ریٹ کے مطابق منافع لاگو ہوگا۔
قرض کی درخواست جمع کرانے پر بینک کسی قسم کی پروسیسنگ فیس وصول نہیں کریں گے۔
درخواستوں اور قرضوں کی تازہ صورتحال
اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2025 سے اب تک ایک لاکھ سات ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، جن میں سے تقریباً 80 فیصد درخواستیں ستمبر 2025 کے بعد جمع کرائی گئیں۔

اب تک 27 ہزار سے زائد درخواستیں منظور کی جا چکی ہیں، جبکہ تقریباً 13 ہزار درخواستیں مختلف وجوہات کی بنا پر مسترد ہوئیں۔ 30 جون 2026 تک 6 ہزار سے زائد قرضے جاری کیے جا چکے ہیں، جن کا اوسط حجم 48 لاکھ روپے رہا، جبکہ مجموعی طور پر 26 ارب روپے سے زائد کے قرضے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق 30 جون 2026 تک ملک میں ہاؤسنگ فنانس کے 293 ارب روپے کے قرضے زیر گردش تھے، جو 65 ہزار 414 قرض لینے والوں کو فراہم کیے گئے۔ فی قرض اوسط رقم تقریباً 45 لاکھ روپے بنتی ہے۔

آن لائن پورٹل بھی متعارف کرایا جائے گا
غلام محمد عباسی نے بتایا کہ اس وقت 70 سے 80 فیصد درخواستیں آن لائن جمع کرائی جا رہی ہیں، جبکہ حکومت جلد وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے لیے ایک خصوصی آن لائن پورٹل متعارف کرائے گی، جس سے درخواست دینے کا عمل مزید آسان، تیز اور شفاف ہو جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے بینکوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ہاؤسنگ فنانس میں ممکنہ نقصانات کا ابتدائی 10 فیصد حکومت برداشت کرے گی، جس سے بینک زیادہ اعتماد کے ساتھ شہریوں کو قرض فراہم کر سکیں گے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق اس وقت پاکستان میں ہاؤسنگ فنانس کے نان پرفارمنگ لونز (NPLs) کی شرح صرف 5.6 فیصد ہے، جو اس شعبے کی بہتر کارکردگی کی عکاسی کرتی ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے ذریعے لاکھوں پاکستانی خاندان اپنے ذاتی گھر کا خواب پورا کرنے کے ساتھ ساتھ ملک میں تعمیراتی سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔

Scroll to Top