آٹھ ماہ کی تحقیقاتی کارروائی، پاکستانی صحافی کو بیرونِ ملک سے مبینہ طور پر بھرتی کرنے کی کوشش بے نقاب
نجی اخبار کے انویسٹی گیشن سیل نے آٹھ ماہ پر محیط ایک تحقیقاتی کارروائی کے بعد ایک ایسے مبینہ نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس پر پاکستانی صحافی کو مالی مراعات، بیرون ملک ملازمت اور مستقل سہولتوں کی پیشکش کے ذریعے سیاسی نوعیت کے پہلے سے تیار شدہ مضامین شائع کرانے اور غیر شائع شدہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کا الزام ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اس کارروائی کے دوران واٹس ایپ اور فیس بک پر ہونے والی گفتگو، ریکارڈ شدہ فون کالز، مالی لین دین کے ریکارڈ اور فراہم کیے گئے مضامین کے مسودے محفوظ کیے گئے، جن کی بنیاد پر پورے نیٹ ورک کے طریقہ کار کو دستاویزی شکل دی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس معاملے کی حساسیت اور قومی سلامتی سے متعلق ممکنہ خدشات کے پیش نظر متعلقہ سرکاری اداروں کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ تحقیقاتی کارروائی دی نیوز کے ایڈیٹر انویسٹی گیشن انصار عباسی کی ادارت میں انجام دی گئی تاکہ مبینہ بھرتی کے طریقہ کار کو ریکارڈ کیا جا سکے۔
رابطے کا آغاز کیسے ہوا؟
رپورٹ کے مطابق نومبر 2025 میں فیس بک کے ذریعے پہلی مرتبہ ایک خاتون نے رابطہ کیا، جس نے خود کو دبئی میں قائم ایک پبلک ریلیشنز کمپنی کی نمائندہ ظاہر کیا۔ ابتدا میں اس نے مختلف ممالک میں رائے پر مبنی مضامین شائع کرانے کے لیے صحافیوں کی تلاش کا دعویٰ کیا، تاہم بعد ازاں اس نے اصل مقصد سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کے کلائنٹس پاکستان کے معروف اخبارات میں پہلے سے تیار شدہ سیاسی مضامین شائع کرانا چاہتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ مضامین میں پاکستان کی عسکری قیادت، ملکی معیشت، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC)، پاک چین تعلقات، افغانستان اور بلوچستان جیسے حساس موضوعات شامل تھے۔
مالی مراعات اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے ادائیگی کی پیشکش
تحقیقات میں بتایا گیا کہ مبینہ نیٹ ورک نے پہلے مضمون کی اشاعت کے لیے 70 ہزار روپے کی پیشکش کی، جس میں 35 ہزار روپے ایڈوانس دینے کی بھی بات کی گئی۔ خاتون نے ادائیگی کرپٹو کرنسی کے ذریعے وصول کرنے پر اصرار کیا اور اس مقصد کے لیے کرپٹو والٹ بنانے کی بھی ترغیب دی۔
رپورٹ کے مطابق جب یہ تجویز قبول نہیں کی گئی تو رقم ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے منتقل کی گئی۔ بعد ازاں مزید 68 ہزار روپے کرپٹو کرنسی کے ذریعے بھیجے گئے، جس کے بعد تحقیقاتی کارروائی کے دوران موصول ہونے والی مجموعی رقم ایک لاکھ تین ہزار روپے تک پہنچ گئی۔
ابتدائی جانچ میں معلوم ہوا کہ پہلی ادائیگی سندھ کے ایک دور افتادہ علاقے سے ہوئی، جبکہ رابطہ برطانیہ کے ٹیلی فون نمبر سے کیا جا رہا تھا۔ تاہم تحقیقاتی ٹیم اس رقم کے اصل ذریعے کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکی۔
سیاسی مضامین اور غیر شائع شدہ معلومات کا مطالبہ
رپورٹ کے مطابق آئندہ چند ماہ کے دوران واٹس ایپ پر تین مکمل سیاسی مضامین بھیجے گئے، جن میں پاکستان کی عسکری قیادت، حکومتی معاشی پالیسیوں اور ایس آئی ایف سی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ایک مضمون میں مبینہ طور پر پاکستان کے آرمی چیف اور وزیراعلیٰ پنجاب کا نام شامل کرنے کی بھی ہدایت دی گئی۔
تحقیقات میں بتایا گیا کہ ان مضامین کے ساتھ کسی قسم کے ثبوت یا مستند حوالہ جات فراہم نہیں کیے گئے، جبکہ ہر ترمیم نامعلوم کلائنٹ کی منظوری سے مشروط تھی۔ جب دعوؤں کے شواہد طلب کیے گئے تو بیرون ملک موجود پاکستان مخالف سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی پوسٹس بطور حوالہ بھیجی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق بعد ازاں نیٹ ورک نے صحافی سے ایسی معلومات حاصل کرنے کی بھی کوشش کی جو ابھی عوامی سطح پر سامنے نہ آئی ہوں، خصوصاً پاکستان اور افغانستان کی سرحدی صورتحال سے متعلق۔ اس کے علاوہ مختلف سرکاری اداروں میں موجود رابطوں کی تفصیلات بھی طلب کی گئیں، تاہم تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق نہ کوئی غیر شائع شدہ معلومات فراہم کی گئیں اور نہ ہی ایسی معلومات حاصل کرنے پر رضامندی ظاہر کی گئی۔
بیرون ملک منتقلی اور ملازمت کی پیشکش
رپورٹ کے مطابق آخری مرحلے میں جب صحافی نے خاتون سے سوال کیا کہ آیا اس نیٹ ورک کا تعلق کسی غیر ملکی خفیہ ادارے سے ہے تو اس نے گفتگو ختم کرنے کے بجائے بیرون ملک ملازمت اور یورپ منتقل کرنے کی پیشکش کی۔ اس نے دعویٰ کیا کہ ضرورت پڑنے پر صحافی اور اس کے اہل خانہ کو جلد یورپی ملک منتقل کیا جا سکتا ہے۔
اگلے روز ایک شخص نے، جس نے خود کو خاتون کا سربراہ قرار دیا، اسی واٹس ایپ نمبر سے رابطہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق اس شخص نے مالی معاوضہ بڑھاتے ہوئے فی مضمون ایک لاکھ ستر ہزار روپے دینے کی پیشکش کی، جس میں 70 ہزار روپے اشاعتی اخراجات اور ایک لاکھ روپے صحافی کے لیے مختص کرنے کی بات کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق اس شخص نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو ایک ہفتے کے اندر صحافی، اس کی اہلیہ اور بچوں کے لیے ویزوں کا بندوبست کیا جا سکتا ہے، جبکہ بین الاقوامی میڈیا اداروں میں ملازمت دلوانے میں بھی مدد فراہم کی جائے گی۔ تاہم دی نیوز ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔
‘پیگاسس معاملے کا بھی دعویٰ
تحقیقاتی رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ مذکورہ شخص نے گفتگو کے دوران یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس نے ماضی میں عالمی سطح پر زیر بحث آنے والے پیگاسس اسپائی ویئر معاملے میں “چھوٹا سا کردار” ادا کیا تھا، تاہم اس دعوے کی بھی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
تحقیقاتی رپورٹ کا نتیجہ
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تحقیقاتی ٹیم اس بات کا آزادانہ تعین نہیں کر سکی کہ اس مبینہ نیٹ ورک کی مالی معاونت کون کر رہا تھا، مضامین کس نے تیار کیے یا اس پورے آپریشن کی ہدایات کہاں سے جاری ہو رہی تھیں۔ تاہم دستیاب شواہد میں بیرونی ذرائع سے تیار شدہ سیاسی مضامین شائع کرانے، غیر شائع شدہ معلومات حاصل کرنے، مالی مراعات کی پیشکش اور آپریشن بے نقاب ہونے کی صورت میں بیرون ملک منتقلی کی متعدد پیشکشیں ریکارڈ پر موجود ہیں۔
نجی اخبار کے مطابق یہ معاملہ ممکنہ قومی سلامتی کے تناظر میں متعلقہ حکام کے علم میں بھی لا دیا گیا ہے تاکہ اس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔





