وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ایک وفاق، چار صوبوں کا نظام اب نہیں چل سکتا، نئی انتظامی تقسیم ناگزیر ہے۔
وفاقی وزیر صحت اور ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان کا موجودہ انتظامی ڈھانچہ ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی اور شہری ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر ہو چکا ہے، اس لیے نئی انتظامی تقسیم وقت کی اہم ضرورت بن گئی ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایک وفاق اور چار صوبوں پر مشتمل موجودہ نظام اب مزید قابلِ عمل نہیں رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں آبادی میں مسلسل اضافہ، شہروں کا پھیلاؤ اور عوامی مسائل اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جہاں مؤثر حکمرانی کے لیے انتظامی اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی تین سال قبل اس بات کی نشاندہی کر چکے تھے کہ پاکستان میں نئی انتظامی تقسیم ناگزیر ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے روایتی انتظامی نظام میں بنیادی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔
مصطفیٰ کمال نے لاہور اور کراچی کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ لاہور ترقی کے اعتبار سے کراچی سے تقریباً 50 سال آگے نکل چکا ہے، جبکہ کراچی آج بھی بنیادی شہری سہولتوں، ٹوٹے ہوئے انفراسٹرکچر، ٹریفک، نکاسی آب اور بلدیاتی مسائل سے دوچار ہے۔
انہوں نے سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 18 برسوں کے دوران صوبے کو 22 ہزار ارب روپے سے زائد وسائل موصول ہوئے، لیکن کراچی کو ان فنڈز کا تین فیصد بھی نہیں دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی ملک کی معیشت میں سب سے زیادہ حصہ ڈالنے والا شہر ہے، اس کے باوجود ترقیاتی منصوبوں اور بنیادی سہولتوں کے معاملے میں اسے مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وسائل کی منصفانہ تقسیم، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور مضبوط بلدیاتی نظام کے بغیر عوامی مسائل کا حل ممکن نہیں۔ ان کے مطابق نئی انتظامی اکائیاں قائم کرنے سے حکومتی نظام زیادہ مؤثر ہوگا اور شہریوں کو بنیادی سہولتیں بہتر انداز میں فراہم کی جا سکیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان طویل عرصے سے نئے انتظامی یونٹس، بااختیار بلدیاتی نظام اور اختیارات کی مقامی سطح تک منتقلی کا مطالبہ کرتی آ رہی ہے، کیونکہ موجودہ ڈھانچہ بڑے شہروں کے مسائل حل کرنے میں ناکام ثابت ہوا ہے۔
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ نئے صوبوں یا انتظامی تقسیم کا معاملہ آئینی اور سیاسی اتفاقِ رائے سے مشروط ہے، جبکہ سندھ کی تقسیم کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔
واضح رہے کہ کراچی میں بلدیاتی اختیارات، ترقیاتی فنڈز، شہری منصوبہ بندی اور وسائل کی تقسیم کا معاملہ کئی برسوں سے وفاق، سندھ حکومت اور مقامی نمائندوں کے درمیان اختلاف کا سبب بنا ہوا ہے۔ مصطفیٰ کمال کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں انتظامی اصلاحات، اختیارات کی تقسیم اور بہتر طرزِ حکمرانی پر ایک بار پھر سیاسی بحث زور پکڑ رہی ہے۔





