اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کی نئی بھرتیوں کے عمل پر عارضی طور پر حکمِ امتناع جاری کرتے ہوئے ادارے کو نئی آسامیوں کے لیے جاری کردہ اشتہار پر مزید پیش رفت سے روک دیا ہے۔
یہ حکم اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محمد اعظم خان نے اے این ایف کے ایک کانسٹیبل کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کے دوران جاری کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک بھرتی کے اشتہار پر عملدرآمد روک دیا جائے گا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔
عدالت نے رجسٹرار آفس کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات بھی ختم کرتے ہوئے درخواست کو قابلِ سماعت قرار دیا، تاہم حتمی فیصلہ مرکزی درخواست کے دلائل اور فریقین کے مؤقف سننے کے بعد کیا جائے گا۔
دوسری جانب اے این ایف نے عدالتی حکم کے بعد اپنا مؤقف جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی بھرتیوں کا عمل مکمل طور پر قواعد و ضوابط کے مطابق جاری تھا اور اس میں موجودہ ملازمین کے حقوق، سینیارٹی اور ترقی کے معاملات کا مکمل خیال رکھا گیا ہے۔
اے این ایف کے مطابق کانسٹیبل شفیق کی جانب سے محکمانہ ترقیاتی کمیٹی (DPC) کے اجلاس نہ ہونے اور ترقی کے لیے غور نہ کیے جانے سے متعلق اعتراض درست نہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں تین مرتبہ ڈی پی سی اجلاس منعقد کیے جا چکے ہیں، جن میں ستمبر 2024، جنوری 2025 اور جنوری 2026 کے اجلاس شامل ہیں۔
ادارے کے مطابق ایک اور ڈی پی سی اجلاس بھی زیرِ عمل ہے، جو 2026 کی بھرتیوں کو حتمی شکل دینے سے قبل مکمل کر لیا جائے گا، جس کے بعد تمام اہل امیدواروں کو قواعد کے مطابق ترقی کے لیے زیرِ غور لایا جائے گا۔
اے این ایف نے واضح کیا کہ موجودہ بھرتی ان آسامیوں کے لیے کی جا رہی ہے جو براہِ راست بھرتی کے ذریعے پُر کی جا سکتی ہیں، جبکہ ترقی کے لیے مختص نشستوں کو اس عمل میں شامل نہیں کیا گیا۔
ادارے نے سیکنڈمنٹ اور تبادلوں سے متعلق درخواست گزار کے اعتراضات کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اے این ایف میں تمام تبادلے اور سیکنڈمنٹ پوسٹنگز ایسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے جاری کردہ اے پی ٹی رولز 2010 کے تحت کی جاتی ہیں، جن میں تبدیلی کا اختیار متعلقہ حکام کے پاس ہے۔
اے این ایف کا مؤقف ہے کہ عدالت کی جانب سے جاری حکمِ امتناع ادارے کا مؤقف سنے بغیر جاری کیا گیا، جس پر ادارہ جلد سماعت کی درخواست دائر کرے گا۔ اے این ایف کے مطابق عدالت کو بھرتی کے عمل سے متعلق تمام حقائق اور قانونی نکات سے آگاہ کرتے ہوئے حکمِ امتناع واپس لینے کی استدعا کی جائے گی تاکہ بھرتی کا عمل مقررہ وقت پر مکمل ہو سکے۔
ادارے نے درخواست گزار کی سروس ہسٹری سے متعلق بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ میانوالی سے تعلق رکھنے والے کانسٹیبل ہیں، جو طویل عرصہ پنجاب میں تعینات رہے، تاہم بعد ازاں انہیں 2024 میں بلوچستان تعینات کیا گیا۔ اے این ایف کے مطابق 2025 میں غیر حاضری اور مبینہ جعلی طبی دستاویزات کے معاملے پر ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کی گئی، جس کے نتیجے میں ایک سال کے لیے انکریمنٹ روکنے کی سزا دی گئی۔
اے این ایف کا کہنا ہے کہ ادارہ ملک میں منشیات کے خلاف کارروائیوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، اس لیے بھرتی کے عمل میں غیر ضروری تاخیر ادارے کی استعدادِ کار کو متاثر کر سکتی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق اس معاملے میں عدالت کا حتمی فیصلہ فریقین کے دلائل، قانونی نکات اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد سامنے آئے گا۔ آئندہ سماعت میں اے این ایف اور درخواست گزار دونوں اپنے اپنے مؤقف پیش کریں گے، جس کے بعد کیس کی سمت مزید واضح ہو سکے گی۔





