را کا جرمن میڈیا ڈوئچے ویلے سمیت غیر ملکی اخبارات کے مواد کو پاکستان میں جگہ دلوانے کے منصوبے کا انکشاف، تحقیقاتی صحافی فخر درانی نے اہم ثبوت جاری کر دیے

 سینئر تحقیقاتی صحافی فخر درانی نے بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی را (RAW) کی جانب سے پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں اثر و رسوخ بڑھانے، جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے (DW)، برطانوی اخبار دی سن اور ایک فرانسیسی اخبار کے مواد کو پاکستانی میڈیا اسپیس میں جگہ دلوانے سے متعلق چونکا دینے والے انکشافات اور آڈیو ریکارڈنگز جاری کی ہیں۔

فخر درانی کے مطابق یہ ایک انتہائی تشویشناک اور حیران کن معاملہ ہے کہ کس طرح را کے مبینہ ایجنٹس غیر ملکی اخبارات اور اداروں کے مواد کو پاکستان میں باقاعدہ رسائی اور قبولیت دلوانے کے لیے کام کر رہے تھے۔

صحافی کے جاری کردہ حقائق کے مطابق تین جولائی کو مبینہ بھارتی ایجنٹ سے 36 منٹ طویل تفصیلی گفتگو ہوئی جس میں ایجنٹ نے واضح کیا کہ ان کا مقصد پاکستان میں کوئی ہنگامہ آرائی یا احتجاج کروانا نہیں بلکہ ڈوئچے ویلے اور دیگر مغربی ذرائع ابلاغ کے مواد کو پاکستانی میڈیا پر جگہ دلوانا ہے۔ اس گفتگو کے دوران مبینہ ایجنٹ نے متنازع جاسوسی سافٹ ویئر پگاسس (Pegasus) پراجیکٹ اور پاکستان کے خلاف اپنے خصوصی آپریشنل کردار کے بارے میں بھی تفصیلی بات چیت کی۔

فخر درانی نے انکشاف کیا کہ مذکورہ ایجنسی ایک متبادل پبلک ریلیشنز (PR) فرم کا روپ دھار کر پاکستان کے خلاف متحرک تھی۔ رواں برس فروری کے مہینے میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے خلاف ایک پروپیگنڈا آرٹیکل شائع کروانے کے سلسلے میں گفتگو جاری تھی اور فنانشل ٹرانزیکشن کا ثبوت حاصل کرنے کے لیے مسلسل ایڈوانس رقم کا تقاضا کیا جا رہا تھا۔ ستائیس فروری کو جب پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر شدید جھڑپیں شروع ہوئیں تو اسی دن مبینہ ایجنسی نے ایزی پیسہ کے ذریعے پیشگی رقم منتقل کی اور ساتھ ہی سرحدی صورتحال سے متعلق ایسی غیر مطبوعہ تصاویر اور ویڈیوز کا مطالبہ کیا جو عام میڈیا پر موجود نہ ہوں۔ ایک بظاہر پی آر فرم کا حساس سرحدی صورتحال کی معلومات طلب کرنا اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ یہ ادارہ بھارتی ایجنسی را کا فرنٹ کور کے طور پر استعمال ہو رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : را کا سوشل میڈیا پر پاکستان مخالف جھوٹا، گمراہ کن اور ریاست دشمن پروپیگنڈا بے نقاب

تحقیقاتی صحافی نے بتایا کہ آٹھ ماہ کے مسلسل رابطے کے بعد جب انہوں نے تمام حقائق جمع کر کے مبینہ ایجنٹ کا سامنا کیا اور ان پر واضح کیا کہ ان کی اصل حقیقت یعنی ‘را’ کا کور سامنے آ چکا ہے، تو ایجنٹ نے انکار کرنے کے بجائے برطانیہ منتقل کرنے اور دیگر مراعات کی پیشکش کرنا شروع کر دیں۔

Scroll to Top