کشمیر الیکشن سے قبل بلاول بھٹو متحرک، پی ٹی آئی کو بھی اہم پیشکش کر دی

مظفرآباد: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وہ آزاد جموں و کشمیر میں امن، انصاف اور خوشحالی دیکھنے کے خواہاں ہیں اور چاہتے ہیں کہ کشمیر کے وسائل، ووٹ، مستقبل اور روزگار سے متعلق فیصلے کشمیری نوجوان خود کریں۔

بلاول بھٹو زرداری آزاد جموں و کشمیر انتخابات کی انتخابی مہم کے سلسلے میں یونی ورسٹی کالج گراؤنڈ مظفرآباد میں جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔ مظفرآباد ڈویژن میں انتخابات کے دوسرے مرحلے میں پولنگ 2 اگست کو ہوگی، جہاں مظفرآباد، نیلم اور ہٹیاں بالا اضلاع کے 9 انتخابی حلقوں سمیت مہاجرین مقبوضہ کشمیر کی 12 نشستوں پر بھی ووٹنگ ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں : میرپور ڈویژن انتخابات: بلاول بھٹو کا دھاندلی کا الزام، 8 نشستیں واپس لینے کا عزم

پیپلزپارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ وہ کشمیر کو “جنت بے نظیر” بنانا چاہتے ہیں، جہاں امن، انصاف اور ترقی ہو، جبکہ کشمیری عوام کو ان کے بنیادی، آئینی اور جمہوری حقوق حاصل ہوں۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ ہمیشہ کشمیری عوام کریں گے اور حق حاکمیت کا تقاضا ہے کہ انتخابات شفاف ہوں اور فیصلے بیلٹ کے ذریعے ہوں، بلٹ کے ذریعے نہیں۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ الیکشن میں ووٹ گنے جائیں، لاشیں نہیں۔

تحریک انصاف کو سیاسی تعاون کی پیشکش

بلاول بھٹو نے تحریک انصاف کے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ انتخابی عمل کا بائیکاٹ کرنے کے بجائے جمہوری سیاست میں حصہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بائیکاٹ ہی کرنا ہے تو پھر گھر بیٹھ جائیں۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی جمہوری سیاست پر یقین رکھتی ہے اور تحریک انصاف کی جانب دوستی اور جمہوری تعاون کا ہاتھ بڑھا رہی ہے، کیونکہ سیاسی جماعتوں کو جمہوری انداز میں آگے بڑھنا چاہیے۔

بلاول بھٹو نے عزم ظاہر کیا کہ پیپلزپارٹی اپنے ووٹ کی طاقت سے اپنے نمائندے منتخب کرائے گی اور کسی کو بھی الیکشن چوری کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جس کا ووٹ ہوگا، اقتدار بھی اسی کا ہونا چاہیے کیونکہ صرف کشمیری عوام کی منتخب حکومت ہی ان کے مسائل حل کر سکتی ہے۔

کشمیر کو قومی اداروں میں نمائندگی دینے کا وعدہ

پیپلزپارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ حق حاکمیت کا مطلب یہ ہے کہ کشمیر پر کشمیریوں کی منتخب کابینہ حکومت کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے جن اداروں میں کشمیر کے پانی، بجلی، معیشت، بجٹ اور مستقبل سے متعلق فیصلے ہوتے ہیں، وہاں کشمیر کی اپنی آواز اور نمائندگی ہونی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں : سورینج میں کوئلے کی کان میں گیس دھماکا، 18 کان کن جاں بحق

انہوں نے کہا کہ شہید بے نظیر بھٹو نے کشمیریوں کو اسلامی تعاون تنظیم میں آبزرور کا درجہ دلوایا تھا، جبکہ وہ کشمیریوں کو این ایف سی، مشترکہ مفادات کونسل (CCI)، قومی اسمبلی اور سینیٹ آف پاکستان میں آبزرور اسٹیٹس دلوانا چاہتے ہیں۔

الیکشن کمیشن پر تنقید

بلاول بھٹو نے آزاد کشمیر الیکشن کمیشن کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ کمیشن اپنا کردار درست انداز میں ادا نہیں کر رہا۔

انہوں نے کہا کہ جب انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تو فوری طور پر انتخابی نتائج کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ نوٹیفکیشن جاری کرنے میں اتنی جلدی اور انصاف فراہم کرنے میں اتنی تاخیر کیوں ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ 2 اگست سے قبل پولنگ سے متعلق تمام شکایات کی تحقیقات مکمل کی جائیں تاکہ انتخابات پر عوام کا اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔

Scroll to Top