کوئٹہ: بلوچستان کے علاقے سورینج میں کوئلے کی کان میں گیس دھماکے کے افسوسناک واقعے کے بعد ریسکیو آپریشن جاری ہے، جہاں اب تک متعدد کان کنوں کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ کان میں پھنسے دیگر مزدوروں کی تلاش کا عمل جاری ہے۔
پی ڈی ایم اے حکام کے مطابق سورینج کوئلہ کان حادثے میں اب تک 18 کان کنوں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں مشکل حالات کے باوجود مسلسل امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں اور کان کے اندر موجود دیگر مزدوروں تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
صوبائی وزیر مائنز اینڈ منرلز میر شعیب نوشیروانی نے بتایا کہ ریسکیو ٹیمیں تمام دستیاب وسائل کے ساتھ آپریشن میں حصہ لے رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت بلوچستان حادثے کے بعد صورتحال کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کر رہی ہے اور امدادی سرگرمیوں میں کوئی کمی نہیں چھوڑی جا رہی۔
انہوں نے حادثے میں جاں بحق ہونے والے کان کنوں کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور انہیں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان ریلویز کا بوسیدہ انفرااسٹرکچر، ٹرین حادثات میں تشویشناک اضافہ
صوبائی وزیر کے مطابق حادثے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی تاکہ واقعے کی وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ کان کنی کے شعبے میں حفاظتی انتظامات کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
میر شعیب نوشیروانی نے بتایا کہ حادثے میں جاں بحق کان کنوں کے لواحقین کو فی کس 5 لاکھ روپے جبکہ زخمی مزدوروں کو فی کس 3 لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے گا۔
حکام کے مطابق ریسکیو کارروائیاں تاحال جاری ہیں، جبکہ حادثے کے بعد کانوں میں حفاظتی اقدامات اور مزدوروں کی سلامتی کے حوالے سے اقدامات پر بھی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔





