ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ رواں سال ملک میں دہشت گردی کے 345 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں زیادہ تر واقعات خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں پیش آئے۔
سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف 2019 آپریشنز کیے، جن میں اب تک 2084 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ برسوں کے مقابلے میں دہشت گردوں کو زیادہ نقصان پہنچایا گیا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ رواں سال دہشت گردی کے واقعات میں مجموعی طور پر 819 پاکستانی شہید ہوئے، جن میں 303 فوجی جوان، 194 قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور 322 عام شہری شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ رواں سال ملک میں 28 خودکش حملوں کے واقعات بھی پیش آئے، جن میں زیادہ تر خودکش حملہ آور افغان شہری تھے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ٹانک اور کراچی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں بھی افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ دہشت گردوں کے پاس دو ہی راستے ہیں، وہ قانون کے مطابق ہتھیار ڈال دیں یا پھر سکیورٹی فورسز کا سامنا کریں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے آپریشنز پوری شدت سے جاری ہیں اور سکیورٹی فورسز کی قربانیاں ملک کے امن کے لیے ہیں۔
بلوچستان کی صورتحال پر ڈی جی آئی ایس پی آر کی گفتگو
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ بلوچستان کے حالات سے متعلق منفی تاثر پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ حقائق کو درست تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی صورتحال پر حقائق کی بنیاد پر بات ہونی چاہیے اور منفی بیانیے کے ذریعے عوامی رائے متاثر کرنے کی کوششوں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے متعلق زمینی حقائق کو مدنظر رکھنا چاہیے اور ترقی، تعلیم اور مساوی مواقع ہی صوبے کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔
آئین اور قانون کی بالادستی پر زور
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ریاستی معاملات آئین اور قانون کے مطابق چلنے چاہییں، جبکہ آئین کی بالادستی اور قانون کی یکساں عملداری ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں اور حقوق کے ساتھ آئینی ذمہ داریوں کی ادائیگی بھی ضروری ہے۔
انہوں نے آئین کے آرٹیکل 5 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاست سے وفاداری ہر شہری کی ذمہ داری ہے اور آئین و قانون کے تقاضوں پر عمل ہی قومی استحکام کی ضمانت ہے۔
بلوچستان کی ترقی سے متعلق گفتگو
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان کا بنیادی مسئلہ فرسودہ سماجی ڈھانچہ ہے، جو عام شہری کی ترقی میں رکاوٹ بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر بچے کو تعلیم، ترقی اور مساوی مواقع ملنے چاہییں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان ڈاکٹر، انجینئر، فوجی افسر اور دیگر شعبوں کے ماہرین بنیں، کیونکہ کسی بھی شہری کو پسماندگی میں رکھنا قابل قبول نہیں۔ ترقی اور مساوی مواقع ہی بلوچستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہیں۔





