امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے ایران کے ساتھ رابطے مذاکراتی فریم ورک کے تحت ہو رہے ہیں۔ ایران کے ساتھ مذاکرات آج دوپہر سے شروع ہوں گے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایران پر بڑے حملے کا منصوبہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور ایران کی درخواست پر منسوخ کیا، خطے کے ممالک کی اپیل پر حملہ روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران پر حملہ ہوتا تو یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑا حملہ ہوتا،ایران پر حملہ ہوتا تو یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑا حملہ ہوتا، میں لوگوں کو مارنا نہیں چاہتا، میری ترجیح معاہدہ کرنا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے کئی اتحادی بھی فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی حل کے حامی ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر معاہدہ موجود ہے اور ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے پر بھی معاہدہ ہوگا،معاہدہ ہی بہتر راستہ ہے،مذاکرات ناکام ہوئے تو تنازع مزید بڑھ سکتاہے۔





