سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا یافتہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو قید تنہائی میں رکھنے کے الزامات مسترد کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں رپورٹ جمع کرا دی، جس میں کہا گیا ہے کہ انہیں جیل میں تنہائی میں نہیں رکھا گیا اور وہ دن بھر اپنے مخصوص کمپاؤنڈ میں آزادانہ نقل و حرکت کرتے ہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں اڈیالہ جیل انتظامیہ کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان صبح لاک اپ کھلنے سے لے کر شام تک اپنے رہائشی حصے میں آزادانہ طور پر چل پھر سکتے ہیں، جبکہ اڈیالہ جیل میں نہ صرف انہیں بلکہ کسی بھی قیدی کو قید تنہائی میں نہیں رکھا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ جیل قواعد کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ہر منگل اپنی اہلیہ بشریٰ عمران سے ملاقات کی اجازت بھی دی جاتی ہے،سابق وزیراعظم اور ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ہونے کے باعث بانی پی ٹی آئی عمران خان کی سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی یوتھ ونگ نے اپنی ہی صوبائی حکومت کی پالیسیوں پر سوالات اٹھا دیے
رپورٹ میں کہا گیا کہ عام قیدیوں کو ان کے رہائشی حصے تک رسائی حاصل نہیں، جبکہ وہ سات سیلز پر مشتمل ایک مخصوص کمپاؤنڈ میں دن بھر آزادانہ نقل و حرکت کرتے ہیں، جیل کے ڈاکٹر روزانہ تین مرتبہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا طبی معائنہ کرتے ہیں اور ان کی خوراک بھی چیک کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر ان کا بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن، آکسیجن سیچوریشن اور دیگر طبی علامات کا جائزہ لیتے ہیں اور انہیں صحت سے متعلق آگاہ بھی کرتے ہیں۔





