حسینہ واجدکو خطاب کی اجازت کیوں دی؟ بنگلہ دیش کا بھارت سےسخت احتجاج،سابق وزیراعظم حوالگی کا مطالبہ

حسینہ واجدکو خطاب کی اجازت کیوں دی؟ بنگلہ دیش کا بھارت سےسخت احتجاج،سابق وزیراعظم کی حوالگی کا مطالبہ

شیخ حسینہ کو ورچوئل خطاب کی اجازت دینے کے معاملے پر بنگلا دیش نے بھارت سے شدید احتجاج کیا،بنگلہ دیش نے ایک بار پھر مفرور سابق وزیراعظم کی حوالگی کا مطالبہ کردیا ۔

ڈھاکہ: بنگلا دیش نے اپنے ملک سے مفرور اور سزا یافتہ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو بھارتی سرزمین سے ورچوئل خطاب کی اجازت دینے پر نئی دہلی حکومت سے باضابطہ شدید احتجاج درج کرواتے ہوئے ان کی فوری حوالگی کا مطالبہ دہرایا ہے۔

بنگلا دیشی حکومت کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شیخ حسینہ نے اپنے خطاب کے دوران بنگلا دیش کے عوام کے خلاف زہریلے اور اشتعال انگیز بیانات دیے ہیں، جو بنگلا دیش کی خود مختاری اور جولائی کے انقلاب کے شہدا کی صریح بےحرمتی ہے۔

یاد رہے کہ سال 2024 میں اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد شیخ حسینہ واجد نے 5 اگست کو پہلی بار بھارت سے میڈیا کے ذریعے ورچوئل گفتگو کی، جس میں انہوں نے رواں سال دسمبر تک بنگلا دیش واپس جانے کا بھی اعلان کیا۔

اس آڈیو و ویڈیو پیغام کی نشر و اشاعت کے بعد بنگلا دیش میں شدید عوامی ردِعمل سامنے آیا ہے، برہم مظاہرین نے سابق بنگلا دیشی کرکٹ کپتان شکیب الحسن کی آبائی قیام گاہ پر حملہ کر کے توڑ پھوڑ کی اور پیٹرول بم پھینکے، تاہم واقعے کے وقت گھر میں کوئی موجود نہیں تھا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

دوسری جانب پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے شیخ حسینہ واجد کے بیان پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان، بنگلا دیش کے اندرونی سیاسی معاملات میں بالکل مداخلت نہیں کرتا۔

Scroll to Top