خیبرپختونخواحکومت کا ڈاکٹروں کودوا کا نام لکھنے کے بجائے فارمولا لکھنے کا پابند بنانے کیلئے قانون سازی پر غور

خیبرپختونخوا میں ڈاکٹروں کودوا کا نام لکھنے کے بجائے فارمولا لکھنے کا پابند بنانے کیلئے قانون سازی پر غور

خیبرپختونخوا حکومت نے ڈاکٹروں کو ادویات کے برانڈ نام کے بجائے صرف فارمولا (جینرک نیم) لکھنے اور ہاتھ سے لکھنے کے بجائے کمپیوٹرائزڈ نسخے جاری کرنے کا پابند بنانے کے لیے قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا ہے

صوبائی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کی رکنِ اسمبلی مہر سلطانہ کی جانب سے پیش کردہ توجہ دلاؤ نوٹس پر بحث کی گئی، اس موقع پر بتایا گیا کہ موجودہ نظام میں ایسا کوئی مؤثر قانون موجود نہیں جو ڈاکٹروں کو دوا کا برانڈ نام لکھنے کے بجائے صرف اس کا فارمولا لکھنے کا پابند بنائے۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کے ہاتھ کے لکھے ہوئے نسخے اکثر ناقابلِ فہم ہوتے ہیں، جس سے مریضوں اور ان کے لواحقین کو شدید مشکلات اور مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے، عوام میں پائی جانے والی اس بے چینی کو ختم کرنے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے ۔

اس موقع پر صوبائی وزیرِ صحت خلیق الرحمان نے ایوان کو آگاہ کیا کہ یہ معاملہ براہِ راست صوبائی دائرہ اختیار میں نہیں آتا بلکہ اس کا تعلق وفاقی سطح کی پالیسیوں سے ہے، تاہم اس حوالے سے موثر قانون سازی کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی حکومت سے باضابطہ رابطہ کیا جائے گا۔

  یہ بھی پڑھیں:  خیبرپختونخوا اسمبلی نے اراکین کی مراعات سے متعلق ترمیمی بل منظور کر لیا

اجلاس میں کے پی کے اسپتالوں کی کارکردگی سے متعلق دیگر امور پر بھی بات کی گئی۔ مردان میڈیکل کمپلیکس میں سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی مشینوں کی خرابی سے متعلق شاہدہ وحید کے توجہ دلاؤ نوٹس پر وزیرِ صحت نے بتایا کہ سی ٹی اسکین مشین کو درست کر لیا گیا ہے، جبکہ ایم آر آئی مشین کی مرمت کا کام بھی جاری ہے جو آئندہ ایک ہفتے کے اندر مکمل طور پر فعال ہو جائے گی۔

Scroll to Top