سہیل آفریدی کی حالیہ انٹرویو، 13 سالہ کارکردگی سے فرار یا مظلومیت کا شوشہ

سہیل آفریدی کی حالیہ انٹرویو، 13 سالہ کارکردگی سے فرار یا مظلومیت کا شوشہ

 خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی کے حالیہ انٹرویو کے بعد سیاسی و صحافتی حلقوں میں ایک نیا بحث چھڑ گیا ہے جہاں ان کے مختلف بیانات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ہمارے ساتھ دوسرے درجے کے شہری کا سلوک کیا جاتا ہے
وزیر اعلیٰ کے اس شکوے پر ناقدین سوال اٹھاتے ہیں کہ ہیلی کاپٹرز کے استعمال اور حکومتی مراعات کے باوجود مظلومیت کا کارڈ کیوں کھیلا جا رہا ہے؟ جب صوبائی اسمبلی کے ارکان بلیو پاسپورٹ لے کر فیملیوں کو باہر بھیج چکے ہیں اور بلحاظ آبادی سندھ اور پنجاب سے زیادہ بجٹ ملنے کے باوجود ایک دھیلا عام پشتونوں تک نہیں پہنچ رہا، تو سارا بجٹ استعمال کرنے کے بعد بھی دوسرے درجے کے شہری کے سلوک کا شکوہ کہاں تک درست ہے؟

ہمارا خان ناحق قید ہے
بانی پی ٹی آئی کی قید کو ناحق قرار دینے کے بیانات پر مخالفین کا کہنا ہے کہ ملک ریاض سے زرو جواہر، زمین اور 8 ارب کے مساوی رشوت لینے کا الزام ہو یا ضبط شدہ رقم کو اسی کے دوسرے جرمانے میں ایڈجسٹ کرنے کا معاملہ، ان کا جواب دیا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ محمد بن سلمان کی گھڑی اور سکھوں سے ملنے والے سونے کے لوٹے کا حساب دینے کے بجائے صرف سیاسی نعرے بازی کی جا رہی ہے۔

ملاقاتیں اور ڈاکٹرز کی رسائی
ملاقاتوں پر پابندی کے دعوے پر یہ نقطہ سامنے لایا گیا ہے کہ سیاسی ملاقاتیں قانون کے تحت بند ہیں، جبکہ غیر سیاسی ملاقات کی ضمانت دینے پر عدالت بھی اجازت دیتی ہے۔ ڈاکٹروں سے نہ ملنے دینے کے الزامات کی تردید اس بات سے ہوتی ہے کہ آئے دن پمز (PIMS) منتقل کیا جاتا ہے اور ملک کے سب سے سینئر ڈاکٹروں کا پینل ان کی دیکھ بھال اور ٹریٹمنٹ کر رہا ہے۔

آئین ہمیں احتجاج کی اجازت دیتا ہے
آئینی حق کے استعمال کے دعوے پر قانونی ماہرین کی رائے ہے کہ وہی آئین سڑکیں بند کرنے اور پولیس پر حملے کرنے سے روکتا ہے۔ اگر آئینی حدود میں رہ کر احتجاج کرنا ہے تو سڑکیں بلاک کیے بغیر ایسا کیوں نہیں کیا جاتا؟

ہماری پوری پارٹی اور اتحادی ساتھ ہوں گے
اس دعوے پر طنز کرتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ پوری پارٹی کا مطلب اڈیالہ کے باہر پہنچنے والے وہی سو افراد ہیںاور اتحادی سے مراد صرف محمود خان اچکزئی ہیں۔

علیمہ خان غیر سیاسی ہیں
علیمہ خان کے غیر سیاسی ہونے کے موقف پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر ان کا کوئی لینا دینا نہیں تو ان کے حکم پر صوبائی بجٹ کیوں روکا گیا اور ان کے ایما پر علی امین گنڈاپور کو ہٹا کر سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ کیوں بنایا گیا؟

محسن نقوی سے نہیں ملا
محسن نقوی سے نہ ملنے کے دعوے پر چیلنج دیا جا رہا ہے کہ اگر دعویٰ کرنے والے غلط ہیں تو ان کے خلاف عدالت جانے کی ہمت کیوں نہیں کی جاتی اور پختونخوا ہاؤس میں موجودگی کا ثبوت کیوں فراہم نہیں کیا جاتا؟

27 ستمبر کو اتنے لوگ آئیں گے کہ سوچ ہے
عوامی طاقت کے اس دعوے پر سوال اٹھایا گیا ہے کہ گزشتہ تین سالوں میں ابھی تک وہ تمام لوگ کہاں تھے اور سڑکوں پر کیوں نہیں آئے؟

ہمارے اسیران جیل میں ہیں
جیل میں موجود اسیران کی بات کرنے پر یہ حقیقت سامنے لائی گئی کہ صوبائی قیادت اور رہنما ان سے ملنے تک نہیں جاتے اور انہیں تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔

مریدکے، 26 نومبر اور کشمیر میں قتل عام
ان واقعات کے الزامات پر یہ بات سامنے لائی گئی کہ ان تینوں واقعات میں نہ لاشیں ملیں، نہ خون، نہ ویڈیو فوٹیج اور نہ ہی لواحقین سامنے آئے۔ مریدکے میں تین افراد ہلاک ہوئے جنہوں نے پہلے ایس ایچ او کو قتل کیا اور پولیس کی جوابی فائرنگ میں مارے گئے، اس کے علاوہ اگر کوئی ہلاکتیں ہیں تو ثبوت پیش کیے جائیں۔

باقی دنیا کہاں پہنچی اور پاکستان کہاں پہنچا
عالمی ترقی کا تقابل کرنے پر یہ سوال کیا گیا ہے کہ پہلے یہ بتایا جائے کہ پاکستان کے باقی صوبے کہاں پہنچے ہیں اور جہاں گزشتہ 13 سالوں سے پی ٹی آئی مسلسل اقتدار میں ہے، وہ صوبہ خیبر پختونخوا کہاں پہنچا ہے؟

Scroll to Top