چین میں نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں (این ای وی) کی فروخت نے جولائی 2026 میں اہم سنگِ میل عبور کرلیا، جب ان گاڑیوں کی ماہانہ فروخت پہلی بار ملک میں فروخت ہونے والی مجموعی نئی گاڑیوں کے 60 فیصد سے بھی بڑھ گئی۔
چائنا ایسوسی ایشن آف آٹوموبائل مینوفیکچررز کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں چین میں این ای وی کی پیداوار 15 لاکھ 70 ہزار یونٹس جبکہ فروخت 15 لاکھ 60 ہزار یونٹس رہی۔ گزشتہ سال جولائی کے مقابلے میں پیداوار میں 26.8 فیصد اور فروخت میں 23.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں معمولی کمی
اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں خالص برقی گاڑیوں کی پیداوار اور فروخت دونوں 10 لاکھ یونٹس سے تجاوز کرگئیں، جبکہ سالانہ بنیاد پر دونوں شعبوں میں 30 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔
رواں سال کے پہلے سات ماہ کے دوران چین میں این ای وی کی مجموعی پیداوار 90 لاکھ 10 ہزار جبکہ فروخت 90 لاکھ یونٹس تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً 10 فیصد زیادہ ہے۔ اس دوران ملک میں نئی گاڑیوں کی مجموعی فروخت میں این ای وی کا حصہ بھی 50 فیصد سے تجاوز کرگیا۔
China’s new-energy vehicle (#NEV) sales in July accounted for more than 60 percent of the monthly new car sales for the first time, while the cumulative share for the first seven months also surpassed 50 percent. pic.twitter.com/5a3rZ12lva
— Wang Yu 王愚 (@CGSyd_WangYu) August 13, 2026
دوسری جانب جولائی میں چین کی مجموعی گاڑیوں کی پیداوار 25 لاکھ 70 ہزار اور فروخت 25 لاکھ 80 ہزار یونٹس رہی۔ اس میں ماہانہ اور سالانہ دونوں بنیادوں پر معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین کے مطابق جولائی روایتی طور پر چین میں گاڑیوں کی فروخت کے حوالے سے نسبتاً سست مہینہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ شدید گرمی، بعض علاقوں میں طوفان اور سیلاب کے باعث بھی مارکیٹ متاثر ہوئی، جبکہ سال کی پہلی ششماہی میں طلب پوری ہونے کے بعد بھی فروخت کی رفتار پر اثر پڑا۔
چین کی گاڑیوں کی برآمدات نے جولائی میں بھی مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور 10 لاکھ 40 ہزار یونٹس سے تجاوز کرگئیں۔ یہ تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں 81.3 فیصد زیادہ ہے۔ ان برآمدات میں نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کا حصہ 5 لاکھ 53 ہزار یونٹس رہا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں ڈیڑھ گنا زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان میں فی تولہ سونا 4 لاکھ 37 ہزار روپے سے تجاوز کر گیا
جنوری سے جولائی 2026 تک چین نے مجموعی طور پر 61 لاکھ 40 ہزار گاڑیاں بیرون ملک برآمد کیں، جن میں 29 لاکھ 10 ہزار نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیاں شامل تھیں۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال تیل کی بلند قیمتوں کے باعث روایتی ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں کے استعمال کی لاگت میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں صارفین کا رجحان نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی جانب مزید مضبوط ہوا۔
چین میں جون 2026 کے اختتام تک برقی گاڑیوں کے لیے چارجنگ سہولیات کی مجموعی تعداد 2 کروڑ 30 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 43.2 فیصد زیادہ ہے۔
چین نے 2026 سے 2030 تک جاری رہنے والے 15ویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران 2030 تک ملک کے مجموعی گاڑیوں کے بیڑے میں نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کا حصہ 30 فیصد تک پہنچانے کا ہدف بھی مقرر کر رکھا ہے۔





