اسلام آباد: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تحت کام کرنے والی مانیٹرنگ ٹیم کی نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو مسلسل حمایت ملنے کے باعث پاکستان میں دہشتگرد حملوں کی تعداد اور شدت میں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ میں افغان طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کو محدود کرنے کے لیے بعض ابتدائی اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاہم اقوام متحدہ کی ٹیم کے مطابق یہ اقدامات تنظیم کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے کے بجائے اسے منظم کرنے تک محدود دکھائی دیتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق طالبان حکام نے پاکستان کی سرحد کے قریب موجود تقریباً 2 ہزار ٹی ٹی پی جنگجوؤں اور ان کے اہل خانہ کو افغانستان کے اندرونی علاقوں میں منتقل کیا۔ طالبان سربراہ ہبت اللہ اخوندزادہ نے مبینہ طور پر پسِ پردہ رابطوں کے ذریعے ٹی ٹی پی قیادت کو پاکستان پر حملے روکنے کی تنبیہ بھی کی اور خبردار کیا کہ بصورت دیگر طالبان کی حمایت سے محروم ہونا پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان آپریشن شعبان کے تحت بلوچستان میں ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کےدہشت گردوں کو نشانہ بنا رہا ہے، دی ڈپلومیٹ رپورٹ
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 16 دسمبر 2025 سے 9 جون 2026 تک کے عرصے میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پار حملوں میں اضافہ ہوا، جس کی ایک بڑی وجہ پاکستان میں ٹی ٹی پی کے بڑھتے ہوئے حملے تھے۔
رپورٹ میں ٹی ٹی پی، القاعدہ، داعش خراسان (آئی ایس آئی ایل-کے) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے درمیان بڑھتے ہوئے عملی اور سہولت کاری کے روابط کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق القاعدہ کے میڈیا ونگ ’السحاب‘ نے 28 اپریل کو طالبان کی حمایت کے ساتھ پہلی مرتبہ پاکستان کے خلاف ٹی ٹی پی کی کارروائیوں کی بھی حمایت کی۔
ایک رکن ملک نے رپورٹ کیا کہ افغانستان میں القاعدہ کے تربیت کاروں نے بی ایل اے کے دہشتگردوں کو ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کے ساتھ تربیت فراہم کی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ القاعدہ برصغیر (اے کیو آئی ایس) مبینہ طور پر ’اتحاد المجاہدین پاکستان‘ کی بنیادی تنظیم تھی، جو خیبرپختونخوا میں متعدد حملوں میں ملوث رہی۔
رپورٹ کے مطابق دسمبر میں ٹی ٹی پی کی سالانہ رہبری شوریٰ کے بعد تنظیم نے اپنے ڈھانچے میں تبدیلی کرتے ہوئے بلوچستان اور وسطی علاقوں جبکہ کشمیر اور گلگت کے لیے دو نئی ڈویژنز قائم کیں۔
ٹی ٹی پی نے ایک نئی ڈویژن کو ’ٹی ٹی پی ایئر فورس‘ کا نام بھی دیا، جس سے اس کی آپریشنل صلاحیتوں کو وسعت دینے کی کوشش کا عندیہ ملتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : آپریشن ردالفتنہ 3، بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی، 19 دہشتگرد جہنم واصل
مارچ میں تنظیم نے مختلف زبانوں میں ’آپریشن خیبر‘ کے نام سے موسمِ بہار کی مہم کا اعلان کیا، جس میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز اور شہریوں کے خلاف حملوں میں اضافے پر زور دیا گیا۔
رپورٹ میں 16 فروری کو باجوڑ میں ہونے والے ایک مہلک حملے کا بھی ذکر کیا گیا، جس میں بارودی مواد سے بھری گاڑی کے ذریعے حملے میں 11 سیکیورٹی اہلکار اور ایک بچہ جاں بحق ہوئے۔ ٹی ٹی پی نے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی اور رپورٹ کے مطابق تنظیم افغانستان سے کارروائیاں کر رہی تھی۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں داعش خراسان کو طالبان حکومت اور خطے کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان اور افغان طالبان کی انسداد دہشتگردی کارروائیوں کے باعث گروپ کو شدید نقصان پہنچا، تاہم اس نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے افغانستان کے شمالی علاقوں میں اپنی سرگرمیاں منتقل اور پاکستان افغانستان سرحدی علاقوں میں تربیتی نیٹ ورک پھیلا لیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق داعش خراسان اب علاقے پر قبضے کے بجائے کم تعداد میں لیکن زیادہ ہائی پروفائل اور بڑے پیمانے پر جانی نقصان والے حملوں پر توجہ دے رہی ہے۔ تنظیم کے پاس ڈرونز، نائٹ وژن آلات اور تھرمل امیجرز سمیت جدید جنگی سازوسامان بھی موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں : آپریشن ردالفتنہ 3، بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، فتنہ الہندوستان کے اہم سرغنہ سمیت 5 دہشتگرد ہلاک
اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں داعش خراسان کے حملوں میں کمی آئی ہے، تاہم پاکستان میں اس کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔
6 فروری کو اسلام آباد کی ایک مسجد میں خودکش حملے کا بھی رپورٹ میں حوالہ دیا گیا، جس میں 32 افراد جاں بحق اور 150 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق حملے کی ذمہ داری ایک ایسے گروپ نے قبول کی جو خود کو پاکستان میں داعش کہتا تھا، تاہم امکان ظاہر کیا گیا کہ کارروائی داعش خراسان نے کی۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مجموعی جائزے کے مطابق افغانستان سے پاکستان کو لاحق دہشتگردی کا خطرہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔ ٹی ٹی پی کو طالبان کی نظریاتی اور لاجسٹک حمایت، القاعدہ کی تربیت اور نظریاتی پشت پناہی جبکہ داعش خراسان اور بی ایل اے کو مشترکہ سہولت کاری کے نیٹ ورکس سے فائدہ پہنچنے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی جنگجوؤں کی سرحد سے دور منتقلی اور اس کی قیادت کو طالبان کی مبینہ تنبیہ سے سرحد پر فوری دباؤ کم ہوسکتا ہے، تاہم طالبان حکومت کی جانب سے ٹی ٹی پی سے تعلق مکمل طور پر ختم کرنے کے زیادہ اہم اقدام کے شواہد رپورٹ میں سامنے نہیں آئے۔





