خلیجی ممالک سے ڈی پورٹ پاکستانیوں کی تعداد اور وجوہات سامنے آگئیں

خلیجی ممالک سے گزشتہ 6 ماہ کے دوران 22 ہزار کے قریب پاکستانی شہریوں کو مختلف وجوہات اور قانونی خلاف ورزیوں پر وطن واپس بھیج دیا گیا ہے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مارچ سے جولائی 2026 کے دوران خلیجی ممالک سے مجموعی طور پر 21 ہزار 951 پاکستانی شہریوں کو ڈی پورٹ کیا گیا۔

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے ایوان کو آگاہ کیا کہ ان شہریوں کو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین اور عمان سے واپس بھیجا گیا ہے۔

حکومتی رپورٹ کے مطابق ڈی پورٹ کیے جانے کی وجوہات میں غیر قانونی رہائش، ویزا اور اقامہ قوانین کی خلاف ورزی، منشیات سے متعلق مقدمات، مفروری اور دیگر مقامي قوانین کی خلاف ورزیاں شامل تھیں۔

متعلقہ ممالک میں گرفتار ہونے والے ان پاکستانیوں کو وہاں موجود پاکستانی سفارتخانوں کی جانب سے ایمرجنسی سفری دستاویزات (آؤٹ پاس) جاری کیے گئے جس کے بعد ان کی وطن واپسی ممکن ہوئی۔ ان اعداد و شمار میں اپنی مرضی سے واپس آنے والے افراد شامل نہیں ہیں۔

قومی اسمبلی کو مزید بتایا گیا کہ خلیجی ریاستوں میں تمام ڈی پورٹیشنز کی وجوہات ایک جیسی نہیں تھیں بلکہ مختلف کیسز میں امیگریشن، ویزا اور اقامہ کے علیحدہ قوانین کی خلاف ورزی سامنے آئی۔

دوسری جانب حکومت نے اوورسیز پاکستانیوں کی جائیدادوں کے تحفظ کے لیے اسلام آباد اور پنجاب کے تمام 36 اضلاع میں خصوصی عدالتیں فعال کر دی ہیں۔ ان عدالتوں کا مقصد بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی املاک سے متعلق تنازعات کو جلد نمٹانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : آئی فون 18 پرو کی قیمتوں میں اضافے اور نئے ماڈلز کا امکان

حکومت نے خلیجی ممالک کا سفر کرنے والے پاکستانیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سفر سے قبل ویزا، اقامہ اور دیگر سفری دستاویزات کی مکمل جانچ کریں اور میزبان ممالک کے قوانین کی پابندی یقینی بنائیں تاکہ ڈی پورٹیشن سمیت دیگر قانونی مسائل سے بچا جا سکے۔

Scroll to Top