امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی سینئر اینکر پرسن اور صحافی بیکی اینڈرسن نے اپنے ایک ٹویٹ میں حکومت پاکستان کی جانب سے سی این این کو بھیجا گیا خط جاری کیا ہے جس میں جیل میں قید بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے تمام الزامات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا ہے۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ قیدی کسی انتظامی حکم کے تحت نہیں بلکہ باقاعدہ عدالتوں سے سزا یافتہ ہیں اور انہیں جیل قوانین کے مطابق تمام سہولیات میسر ہیں، جبکہ ان کے ساتھ کسی قسم کی سختی، تنہائی یا ناانصافی کے الزامات بے بنیاد ہیں۔
حکومتی ردعمل کے مطابق عمران خان کے لیے جیل میں 7 خلیوں پر مشتمل ایک الگ کمپاؤنڈ مختص ہے جس میں سونے، ورزش اور صفائی کا پورا انتظام موجود ہے۔ انہیں خصوصی طور پر تیار کردہ معیاری کھانا جیسے گوشت، چکن، ڈرائی فروٹس، پھل اور جوسز دینے کے ساتھ ساتھ گھر سے کھانا منگوانے اور ورزش کا سامان رکھنے کی بھی اجازت ہے۔
ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اب تک 198 ملاقاتی سیشنز میں 900 سے زائد افراد بشمول فیملی، وکلا، ڈاکٹرز اور سیاسی رہنما ان سے مل چکے ہیں۔ 4 اگست 2026 کو اہلیہ سے اور اگست کے آخری ہفتے میں ان کی بہنوں سے بھی ملاقاتیں ریکارڈ کا حصہ ہیں جبکہ بیرون ملک فیملی ممبرز اور بیٹوں سے ٹیلی فون اور واٹس ایپ پر رابطے کروائے گئے ہیں۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کے دونوں بیٹوں کے پاس نائیکوپ کارڈ موجود ہیں اور وہ جب چاہیں پاکستان کا سفر کر سکتے ہیں۔
طبی سہولیات کی تفصیلات دیتے ہوئے حکومت نے سی این این کو بتایا کہ پمز، شوکت خانم، شفا انٹرنیشنل اور الستار آئی ٹرسٹ کے میڈیکل بورڈز کی جانب سے 30 سے زائد بارعمران خان کا معائنہ کیا گیا ہے اور آنکھ کے مرض کی تشخیص کے بعد انہیں 5 مخصوص انجیکشنز سمیت بہترین علاج فراہم کیا گیا۔
بیان میں عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ نیازی کے اس میڈیا بیان کا بھی حوالہ دیا گیا جس میں انہوں نے اپنے بھائی کو سو فیصد فٹ قرار دیا اور آنکھ کے معالج کی تعریف کی تھی جس کے بارے میں حکومت کا کہنا ہے کہ یہ بیان خود طبی غفلت کے تمام دعوؤں کی نفی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : لکی امن کمیٹی کے غنڈوں نےپولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے،قومی دھارے میں شامل
حکومت پاکستان نے عالمی میڈیا اور سی این این پر زور دیا ہے کہ وہ اس تمام معاملے کو سیاسی تنازع بنانے کے بجائے مصدقہ سرکاری اور طبی ریکارڈز کی روشنی میں دیکھیں۔





