پشاور میں ممتاز عرف ممتازے اور پولیس پر حملے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ تیار

Pakistan SCO Summit 2026

کاشف عزیز

پشاور: نادرن بائی پاس پر ممتاز عرف ممتازے اور پولیس پارٹی پر ہونے والے حملے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ تیار کرلی گئی ہے، جس کے مطابق حملے میں تقریباً 10 رکنی گروہ ملوث تھا۔

ابتدائی رپورٹ کے مطابق ممتاز عرف ممتازے کو ڈی ایس پی چمکنی کی گاڑی میں تھانہ داؤدزئی منتقل کیا جا رہا تھا کہ حملہ آوروں نے پولیس گاڑیوں کو نشانہ بناتے ہوئے چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں سے فائرنگ کردی۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق حملہ آوروں نے پہلے پولیس گاڑی کے ٹائروں پر فائرنگ کی، جس کے بعد گاڑی پر ہینڈ گرنیڈ سے بھی حملہ کیا گیا۔ ممتازے کو دوسری گاڑی میں منتقل کرنے کے دوران پولیس اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔

پولیس کی جوابی کارروائی میں ممتاز عرف ممتازے سمیت دو حملہ آور ہلاک ہوگئے، جبکہ حملے کے نتیجے میں دو ایس ایچ اوز شدید زخمی ہوئے۔

پولیس کے مطابق حملہ آور فرار ہوتے وقت ممتازے سے مخبری کا بدلہ لینے کے نعرے بھی لگاتے رہے۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حملہ مبینہ طور پر لالی گینگ کی مخبری کا بدلہ لینے کے لیے کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : پشاور ہائیکورٹ کا اشتہاری ملزم ممتاز عرف ممتازے کی لاش اصل ورثا کے حوالے کرنے کا حکم

ایس ایس پی آپریشنز فرحان خان کے مطابق نادرن بائی پاس پر حملہ کرنے والے مبینہ اجرتی قاتلوں کی شناخت کرلی گئی ہے۔ ہلاک ہونے والے حملہ آوروں کی شناخت سید نواب اور علی خان کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ دونوں کے خلاف مختلف تھانوں میں مقدمات بھی درج ہیں۔

ایس ایس پی آپریشنز کے مطابق واردات میں استعمال ہونے والی دونوں موٹر سائیکلیں فقیر آباد اور چمکنی کے علاقوں سے چھینی گئی تھیں۔

فرحان خان کے مطابق ممتازے کو اسلام آباد ایئرپورٹ سے تھانہ داؤدزئی منتقل کیا جا رہا تھا اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اسے بلٹ پروف جیکٹ بھی پہنائی گئی تھی۔

ایس ایس پی آپریشنز نے مزید بتایا کہ حملے کی منصوبہ بندی مبینہ طور پر لالی گینگ کے کزن نے کی تھی، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

پولیس کے مطابق ضروری قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد ہلاک ہونے والے دونوں حملہ آوروں کی لاشیں ان کے ورثا کے حوالے کردی گئی ہیں۔

Pakistan SCO Summit 2026
Scroll to Top