پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں جاری 76 اعلیٰ ترجیحی ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے تاخیر کا شکار سکیموں کی رفتار تیز کرنے اور منصوبوں کی راہ میں حائل رکاوٹیں فوری دور کرنے کی ہدایت کردی۔
محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی زیر صدارت اجلاس میں ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 76 منصوبوں میں سے 63 مقررہ اہداف کے مطابق جاری ہیں، ایک سڑک کا منصوبہ مکمل ہوچکا ہے اور گراؤنڈ بریکنگ کے لیے تیار ہے، جبکہ 12 منصوبے سست روی کا شکار ہیں اور مقررہ اہداف سے پیچھے ہیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ سب سے زیادہ ترجیحی منصوبوں میں سے 15 منصوبوں کا جائزہ لیا گیا، جن میں 10 مقررہ اہداف کے مطابق جاری ہیں جبکہ 5 منصوبوں پر کام تاخیر کا شکار ہے۔
روڈز کے شعبے میں مجموعی طور پر 14 منصوبے شامل ہیں، جن میں ایک منصوبہ مکمل ہوچکا ہے جبکہ باقی 13 منصوبوں پر کام مقررہ اہداف کے مطابق جاری ہے۔ اربن ڈیولپمنٹ کے 11 منصوبوں میں سے 8 اہداف کے مطابق جبکہ 3 منصوبے اہداف سے پیچھے ہیں۔
ٹرانسپورٹ کے شعبے کے 3 منصوبوں میں سے ایک پر کام درست سمت میں جاری ہے جبکہ 2 منصوبوں کی رفتار سست قرار دی گئی۔ تعلیم، ہاؤسنگ، انرجی اینڈ پاور، لائیواسٹاک اور کھیلوں سمیت دیگر شعبوں کے تمام ترجیحی منصوبے طے شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔
اجلاس میں صحت کے منصوبوں سے متعلق بھی اہم ہدایات جاری کی گئیں۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں بچوں کے ایمرجنسی وارڈ کی استعداد بڑھانے سے متعلق II-PC ایک ہفتے کے اندر جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا بلدیاتی انتخابات: الیکشن کمیشن نے حکومت کو قانون سازی کیلئے 3 ہفتے کی مہلت دے دی
حکام کو ہیلتھ سٹی کے لیے متبادل زمین کے انتخاب، لکی مروت میں بینظیر گراؤنڈ اور پشاور کے جنرل ہسپتال منصوبے سے متعلق رکاوٹیں بھی جلد دور کرنے کا حکم دیا گیا۔ ضم شدہ اضلاع میں ٹیلی میڈیسن منصوبے پر پیشرفت بھی اگلے اجلاس سے قبل طلب کرلی گئی۔
ٹرانسپورٹ اور بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں بی آر ٹی کارخانو سے جمرود تک توسیعی منصوبے کا PC-I جبکہ پشاور کے لیے نئی رنگ روڈ کا II-PC جلد جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔
لوکل گورنمنٹ کے منصوبوں میں رنگ روڈ مسنگ لنک، ناصر باغ تا آر ایم ٹی، کا PC-I اور دیگر متعلقہ دستاویزات ستمبر 2026 تک جمع کرانے کا حکم دیا گیا۔ یونیورسٹی روڈ اور رامداس چونگی انڈر پاسز سے متعلق مسائل بھی فوری طور پر حل کرنے کی ہدایت کی گئی۔
سوشل ویلفیئر کے شعبے میں چارسدہ روڈ پر واقع زمونگ کور کی عمارت کی بہتری اور ضروری سہولیات کی فراہمی سے متعلق I-PC جلد جمع کرانے کا حکم دیا گیا۔
ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے تمام انتظامی محکموں کو ہدایت کی کہ تاخیر کا شکار منصوبوں کی رکاوٹیں فوری دور کی جائیں اور مانیٹرنگ کا نظام مزید مؤثر بنایا جائے۔
حکومت نے واضح کیا کہ کسی بھی منصوبے کی ٹائم لائن میں تبدیلی متعلقہ سیکشن چیفس کی منظوری کے بغیر نہیں کی جاسکے گی، جبکہ تاخیر کا شکار منصوبوں پر کام کی رفتار ہر صورت تیز کرنے کی ہدایت کی گئی۔





