قبائلی اضلاع میں جاری ٹرانسپورٹ فیسلیٹیشن پراجیکٹ سے 38 ملازمین فارغ

Pakistan SCO Summit 2026

شاہد جان

پشاور: خیبرپختونخوا کے محکمہ ٹرانسپورٹ نے قبائلی اضلاع میں گزشتہ چار سال سے جاری ٹرانسپورٹ فیسلیٹیشن پراجیکٹ سے 38 ملازمین کو فارغ کردیا ہے، جس کے بعد متاثرہ ملازمین اپنے مستقبل کے حوالے سے شدید تشویش کا شکار ہیں۔

ذرائع کے مطابق حکومت خیبرپختونخوا نے سال 2022 میں سابقہ فاٹا کے نئے ضم شدہ اضلاع میں محکمہ ٹرانسپورٹ کی خدمات کو مؤثر اور عوام دوست بنانے کے لیے ٹرانسپورٹ فیسلیٹیشن پراجیکٹ شروع کیا تھا۔

اسی منصوبے کے تحت 2022 میں ایٹا کے ذریعے ملازمین بھرتی کیے گئے تھے، تاہم اب انہیں ملازمت سے فارغ کرنے کے حوالے سے خطوط جاری کردیئے گئے ہیں۔

متاثرہ ملازمین کا کہنا ہے کہ انہوں نے چار سال سے زائد عرصے تک مشکل اور دور دراز علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں انجام دیں، لیکن اب انہیں اچانک ملازمت سے فارغ کیے جانے کے باعث مستقبل کے حوالے سے شدید بے یقینی کا سامنا ہے۔

ملازمین کے مطابق ان میں سے متعدد افراد اب سرکاری ملازمت کے لیے مقررہ عمر کی حد کے قریب پہنچ چکے ہیں یا اسے عبور کرچکے ہیں، جس کے باعث دوبارہ سرکاری ملازمت حاصل کرنا ان کے لیے انتہائی مشکل ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا فیصلہ، سابق فاٹا اورپاٹا کی صنعتیں سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ قرار

ان کا کہنا ہے کہ اگر تجربہ کار ملازمین کو فارغ کرکے انہی نوعیت کی آسامیوں پر نئے افراد بھرتی کیے جاتے ہیں تو اس سے متاثرہ ملازمین کو بڑا معاشی نقصان ہوگا، جبکہ حکومت بھی پہلے سے تربیت یافتہ اور تجربہ رکھنے والی افرادی قوت سے محروم ہوجائے گی۔

متاثرہ ملازمین نے اس معاملے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ سمیع اللہ خان کو خط بھی ارسال کیا ہے۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ملازمین کی برطرفی کا فیصلہ واپس لیا جائے یا محکمہ ٹرانسپورٹ میں موجود 104 خالی آسامیوں میں سے موزوں نشستوں پر ان 38 ملازمین کو قواعد و ضوابط کے مطابق ایڈجسٹ کیا جائے۔

Pakistan SCO Summit 2026
Scroll to Top