پشاور: پشاور سمیت ملک کے بڑے شہروں میں ٹریفک حادثات کی شرح تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہے، جہاں اوسطاً ہر پانچ منٹ بعد ایک حادثہ رونما ہوتا ہے اور ان واقعات میں کوئی نہ کوئی شخص زخمی یا جاں بحق ہوجاتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں ٹریفک حادثات کے باعث ہر سال 28 ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں، جبکہ 50 ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہوکر عمر بھر کی معذوری کا شکار ہوجاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ٹریفک حادثات میں جاں بحق یا مستقل معذوری کا شکار ہونے والے افراد میں تقریباً 60 فیصد کی عمریں 15 سے 44 سال کے درمیان ہوتی ہیں، جس سے حادثات کے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے عمر کے طبقے کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
ہر سال سڑکوں پر ہونے والے حادثات کے بعد زخمیوں کے علاج اور تباہ شدہ گاڑیوں کی مرمت پر تقریباً 9 ارب ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ رقم پاکستان کو آئی ایم ایف سے ملنے والے 6 ارب ڈالر کے قرض سے بھی زیادہ ہے۔
نیشنل ٹرانسپورٹ ریسرچ کی رپورٹ کے مطابق ملک میں ٹریفک حادثات کی بڑی وجہ انسانی غلطی ہے۔ ڈرائیورز میں ٹریفک قوانین سے آگاہی کا فقدان، تیز رفتاری، لاپرواہی سے ڈرائیونگ اور قوانین کی خلاف ورزی حادثات کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کم عمر نوجوانوں میں موٹر سائیکل اور گاڑی چلانے کا رجحان بھی مسلسل بڑھ رہا ہے، جس کے باعث خطرناک حادثات میں اضافہ ہورہا ہے۔
ملک میں تقریباً 24 فیصد افراد بغیر ڈرائیونگ لائسنس گاڑی چلاتے ہیں، جو سڑکوں پر نہ صرف اپنی بلکہ دوسروں کی زندگیوں کے لیے بھی خطرہ بن رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : سول سرونٹس کی اسپیشل پے اسکیلز اور کنٹریکچوئل عہدوں سے متعلق پالیسی میں ترمیم
بڑے شہروں میں سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کی صورتحال بھی حادثات اور جانی نقصان میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق تقریباً 84 فیصد سڑکوں پر زیبرا کراسنگ، پیدل چلنے والوں کے لیے پل یا مناسب پگڈنڈیاں موجود نہیں، جس کے باعث شہریوں کو اپنی جان خطرے میں ڈال کر سڑک عبور کرنا پڑتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹریفک قوانین پر مؤثر عملدرآمد، ڈرائیونگ لائسنس کے نظام کو بہتر بنانے، تیز رفتاری کی روک تھام اور پیدل چلنے والوں کے لیے محفوظ راستوں کی فراہمی سے حادثات اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع میں کمی لائی جاسکتی ہے۔





