وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ٹریڈ فیسیلیٹیشن بورڈ کے پہلے اجلاس میں تجارتی عمل کو تیز کرنے، کاروباری لاگت میں کمی لانے اور برآمدات بڑھانے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔
اس موقع پر وزیراعظم نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت کاروباری برادری کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
وزیراعظم نے تجارتی امور میں غیر ضروری تاخیر کے خاتمے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ حجم کی حامل بندرگاہوں پر تمام متعلقہ محکمے مل کر کاروباری برادری کو ایک ہی چھت کے نیچے تمام سہولیات فراہم کریں۔
انہوں نے مختلف اداروں کے درمیان مشترکہ انسپیکشن اور پروفائلنگ کے نظام کو فروغ دینے پر زور دیا اور تمام نان ٹیرف اقدامات کا جامع آڈٹ کرنے کا حکم دیا۔
وزیراعظم نے اس ضمن میں ایک ورکنگ گروپ کی منظوری بھی دی جو ایک ماہ کے اندر غیر ضروری قواعد کے خاتمے اور آسانیاں پیدا کرنے کا روڈ میپ پیش کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاک ایران تجارت میں بڑا بریک تھرو؟ گبد ریمدان سرحد 24 گھنٹے کھولنے کی تجویز سامنے آگئی
برآمدات اور ترسیل کو تیز تر بنانے کے لیے وزیراعظم نے پاکستانی بندرگاہوں تک براہ راست شپنگ لائنز لانے کے مؤثر اقدامات کی ہدایت کی، تاکہ فیکٹریوں سے مال براہ راست عالمی خریداروں تک کم وقت میں پہنچ سکے۔
اس کے علاوہ کارگو ڈویل ٹائم، کسٹمز کلیئرنس اور لاجسٹکس جیسے امور کی پیمائش کے لیے ’’قومی تجارتی کارکردگی انڈیکس‘‘ تیار کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔
معیشت میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں کا حصہ بڑھانے کے لیے خصوصی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ کارگو کلیئرنس کے عمل کو تیز بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت سے استفادہ حاصل کرنے اور رسک مینجمنٹ کے نظام کو مزید بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔
اجلاس میں بندرگاہوں کے لیے ٹائم ریلیز آٹومیٹڈ سسٹم کے اہداف کی منظوری بھی دی گئی، جن کے تحت رواں مالی سال کے آخر تک تیس فیصد پری ارائیول کلیئرنس اور گرین چینل کا حصہ پینسٹھ فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔





