مشرق وسطیٰ کے اہم بحری راستوں میں شدید بحران کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں طوفانی تیزی آ گئی ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش اور باب المندب کے اسٹریٹجک مقام پر حوثی باغیوں کے قبضے نے توانائی کی سپلائی لائنوں کو شدید متاثر کیا ہے، جس سے بین الاقوامی منڈیوں میں اضطراب پھیل گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ آئل) کی قیمت 108 ڈالر فی بیرل کی سطح پر جا پہنچی ہے، جو گزشتہ چار ماہ کے دوران ترین بلند ترین سطح ہے۔
اسی طرح امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بھی 103 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت تین ماہ کی بلند ترین سطح پر آگئی
خطے کے دیگر اہم تیل بردار ممالک بھی اس بحران کی زد میں ہیں، جہاں متحدہ عرب امارات کے مربن کروڈ آئل کی قیمت 116 ڈالر فی بیرل کی ریکارڈ حد کو چھو چکی ہے۔
خام تیل کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر قدرتی گیس کے نرخوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جس سے دنیا بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان اٹھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔





