گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان کی کلاس تھری اور کلاس فور ایسوسی ایشنز نے یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے نصف تنخواہ کی ادائیگی کی تجویز مسترد کرتے ہوئے گریڈ 1 سے 16 تک تمام ملازمین کو مکمل اور بروقت تنخواہوں کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کردیا۔
ایسوسی ایشنز کے مطابق گزشتہ روز ایکٹنگ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نعمت اللہ بابر کے ساتھ کابینہ اجلاس کے دوران یونیورسٹی کو درپیش مالی مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے نصف تنخواہ ادا کرنے اور بقیہ رقم کے لیے ملازمین سے رضامندی حاصل کرنے کی تجاویز سامنے آئیں۔
دونوں ایسوسی ایشنز نے بعد ازاں ملازمین سے مشاورت کی، جس کے بعد نصف تنخواہ کی ادائیگی یا کسی بھی قسم کی کٹوتی کو متفقہ طور پر مسترد کردیا گیا۔
ملازمین کا کہنا ہے کہ تنخواہ کسی قسم کا عطیہ یا احسان نہیں بلکہ فرائض کی انجام دہی اور خدمات کے عوض ان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ ان کے مطابق یونیورسٹی کی مالی مشکلات یا انتظامی بدانتظامی کا بوجھ غریب ملازمین پر ڈالنا معاشی اور اخلاقی طور پر ناانصافی ہے۔
ایسوسی ایشنز کا کہنا ہے کہ نصف تنخواہ ملنے کی صورت میں ملازمین کے گھریلو اخراجات، بچوں کی تعلیم اور علاج معالجے سمیت دیگر بنیادی ضروریات شدید متاثر ہوں گی۔
ملازمین کی نمائندہ تنظیموں نے وائس چانسلر اور ڈائریکٹر فنانس کو مالی معاملات کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مالی وسائل کی فراہمی اور انتظامی امور کو بہتر بنانا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، جس کی ناکامی کا خمیازہ ملازمین کو نہیں بھگتنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: عدالتی حکم کے باوجود گومل یونیورسٹی میں تعیناتی، نیا تنازع کھڑا ہوگیا
ایسوسی ایشنز نے انتظامیہ کو 11 ستمبر 2026 تک تمام واجب الادا تنخواہیں مکمل طور پر جاری کرنے کی حتمی مہلت دے دی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر “No Work, No Pay” کے اصول کے تحت ملازمین کی تنخواہیں روکی گئیں تو اس کے جواب میں “No Pay, No Work” کے تحت پرامن احتجاج، کام چھوڑ ہڑتال اور دیگر آئینی و قانونی راستے اختیار کیے جائیں گے۔
ایسوسی ایشنز نے ایکٹنگ وائس چانسلر سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ملازمین کے نمائندوں سے بامعنی مشاورت کی جائے اور شفاف طریقے سے مسئلے کا حل نکالا جائے تاکہ گومل یونیورسٹی کا انتظامی اور تعلیمی ماحول متاثر ہونے سے بچایا جاسکے۔





