کوہاٹ، سونے کی مبینہ مائننگ میں 80 فیصد ہیوی مشینری سیاسی شخصیات کی ملکیت ہونے کا انکشاف

Pakistan SCO Summit 2026

کوہاٹ: خیبرپختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں سونے کی مبینہ غیر قانونی کان کنی کے معاملے پر دو سیاسی دھڑوں کے درمیان خونی تصادم کے بعد پولیس نے گرینڈ آپریشن کرتے ہوئے غیر قانونی کان کنی کے ٹھکانے مسمار اور ہیوی مشینری قبضے میں لے لی۔

فائرنگ کے واقعے میں ہلاکتوں اور زخمیوں کے بعد سابق رکن صوبائی اسمبلی امجد آفریدی سمیت دیگر افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعہ 7 کے تحت مقدمات درج کرلیے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق درابو کچ اور تھانہ گمبٹ کے علاقوں میں سونے کی تلاش کے معاملے نے اس وقت خونریز شکل اختیار کی جب دو بااثر سیاسی گروہ مبینہ طور پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم کے بھتیجوں، مجاہد آفریدی اور صادق آفریدی، اور سابق ایم پی اے امجد آفریدی کے گروہوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں کئی افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔

پولیس نے واقعے کے بعد دو ایف آئی آرز درج کی ہیں، جن میں انسداد دہشت گردی کی دفعہ 7 بھی شامل ہے، جبکہ سابق ایم پی اے امجد آفریدی کو بھی مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق علاقے میں غیر قانونی کان کنی کے لیے استعمال ہونے والی 80 فیصد سے زائد ایکسیویٹرز اور بھاری مشینری مبینہ طور پر بااثر سیاسی شخصیات سے وابستہ افراد کی ملکیت ہے۔

اطلاعات کے مطابق صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم اور سابق رکن اسمبلی امجد آفریدی پر بھی درابو کچ اور قمر کے علاقوں میں غیر قانونی کان کنی کی مبینہ سرپرستی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

تاہم ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

یہ بھی پڑھیں : کوہاٹ میں غیر قانونی کان کنی پر تصادم، 4 افراد جاں بحق

فائرنگ کے واقعے اور جانی نقصان کے بعد 14 ستمبر کو ڈی پی او کوہاٹ کی قیادت میں پولیس کی بھاری نفری نے علاقے میں بھرپور کارروائی کی۔

پولیس آپریشن کے دوران متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ غیر قانونی کان کنی کے ٹھکانوں کو مسمار کردیا گیا۔ پولیس نے موقع سے ایکسیویٹرز اور دیگر بھاری مشینری بھی قبضے میں لے لی۔

حکام کے مطابق غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رکھی جائیں گی۔

کوہاٹ اور گردونواح کے علاقوں میں ندی نالوں کی ریت سے سونا نکالنے، جسے ’پلاسر گولڈ مائننگ‘ کہا جاتا ہے، کا عمل ایک عرصے سے جاری ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق اس سرگرمی کے حوالے سے مستقل ضابطہ کار اور واضح حکومتی قانونی فریم ورک نہ ہونے کے باعث بااثر عناصر اور مبینہ مائننگ مافیا نے اس سرگرمی میں اثر و رسوخ قائم کر رکھا تھا۔

ریاستی نگرانی اور قانونی ضابطوں کی کمزوری کے باعث علاقے میں غیر قانونی کان کنی کے حوالے سے تنازعات بڑھتے رہے، جو بالآخر مبینہ مفادات کی اس خونی لڑائی تک جا پہنچے۔

اس صورتحال نے ریاستی عملداری، قومی وسائل کے تحفظ اور غیر قانونی کان کنی کی روک تھام سے متعلق بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔

Pakistan SCO Summit 2026
Scroll to Top