سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے خلیجی خطے کی موجودہ صورتحال اور سعودی عرب پر ہونے والے ڈرون و میزائل حملوں کے تناظر میں بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب پر حملہ ہوتا ہے تو پاکستان اور ترکیہ اسے اپنے خلاف حملہ تصور کرتے ہوئے فوری اور بھرپور جواب دینے کے پابند ہیں۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ اس وقت عالمی سطح پر ایک بڑی سازش کے تحت مسلم ممالک کو آپس میں لڑانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات اور اہم علاقوں کو نشانہ بنائے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک طرف اسرائیل سے دشمنی کا دعویٰ کیا جاتا ہے اور دوسری طرف تمام مسلمانوں کے مقدس ترین مقام مکہ مکرمہ کی طرف ڈرونز اور میزائلوں کا رخ موڑ دیا گیا ہے جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔
حامد میر کے مطابق اگرچہ ایران نے ان حملوں سے لا تعلقی کا اظہار کیا ہے لیکن ایران سمیت دیگر اسلامی ممالک کو اس لڑائی کو روکنے کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہو گا۔
انہوں نے ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا کہ پاکستان اور ترکیہ کی افواج اور حکومتیں سعودی عرب کے ساتھ مسلسل رابطے اور کوآرڈینیشن میں ہیں اور تمام تر دفاعی معلومات کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس طرح کے حساس دفاعی معاہدوں اور حکمتِ عملی کی تمام تفاصیل عام نہیں کی جاتیں لیکن جیسے ہی سعودی عرب کی جانب سے اشارہ کیا گیا تو پاکستان اور ترکیہ مشترکہ طور پر ان تمام مقامات کو جہاں سے حملے کیے جا رہے ہیں چند منٹوں میں نیست و نابود کر دیں گے۔
حامد میر نے خبردار کیا کہ حوثی ملیشیا کو ان حملوں سے فوری پیچھے ہٹ جانا چاہیے ورنہ ایسا عبرتناک ردعمل دیکھنے کو ملے گا جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔





