بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے وزٹ یا ٹورسٹ ویزے پر بیرون ملک سفر کرنے والے پاکستانی شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے ہدایت نامہ جاری کیا ہے کہ وہ غیر قانونی ایجنٹوں کے جھانسے میں آ کر ملازمتوں کے جھوٹے وعدوں پر یقین نہ کریں۔
ترجمان کے مطابق وزٹ یا سیاحتی ویزے پر کام کرنا قانونا جرم ہے اور اکثر غیر رجسٹرڈ ایجنٹ یا سب ایجنٹ غلط دعویٰ کرتے ہیں کہ وزٹ ویزہ پہنچ کر ورک ویزے میں تبدیل ہو جائے گاجبکہ ویزے کی نوعیت میں تبدیلی مکمل طور پر متعلقہ ملک کے امیگریشن قوانین کے تحت ہوتی ہے اور کوئی بھی ایجنٹ اس کی ضمانت نہیں دے سکتا۔
بیورو کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ وزٹ ویزے پر غیر قانونی کام کرنے سے شہریوں کو گرفتاری، بھاری جرمانے، ملک بدری، مستقل پابندی اور آئندہ کے لیے قانونی ملازمت کے مواقع ختم ہونے جیسے شدید خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس کے علاوہ بغیر قانونی دستاویزات کے کام کرنے والے افراد مالکان کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہوتے ہیں جن میں تنخواہوں کی عدم ادائیگی، پاسپورٹ کی ضبطی، علاج معالجے اور قانونی سہولیات سے محرومی جیسے مسائل شامل ہیں۔
بیرون ملک محفوظ روزگار حاصل کرنے کے لیے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صرف بیورو آف امیگریشن سے لائسنس یافتہ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے ذریعے ہی رابطہ کریں۔ کسی بھی غیر مجاز شخص یا سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو رقم یا اصل دستاویزات دینے سے گریز کریں۔
یہ بھی پڑھیں : سستا پیٹرول اسکیم: پیٹرولیم ڈیلرز کا فی لیٹر 100 روپے ریلیف پر پیٹرول بیچنے سے انکار
رقم کی ادائیگی صرف قانونی ذرائع سے کر کے رسید حاصل کریں اور روانگی سے قبل اپنا تحریری معاہدہ، ورک ویزہ اور پروٹیکٹر آف ایمیگرنٹس کی قانونی تحفظ کی مہر لازمی مکمل کروائیں۔





