پشاور ہائیکورٹ نے پروفیسر بشیر احمد قتل کیس میں ملزم کی اپیل مسترد کردی

کامران علی شاہ

پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے اسلامیہ کالج کے پروفیسر بشیر احمد کے قتل کیس میں نامزد ملزم شیر محمد کی سزا کے خلاف اپیل خارج کرتے ہوئے سیشن کورٹ کی جانب سے سنائی گئی 14 سال قید کی سزا برقرار رکھی ہے۔

پشاور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ جسٹس وقار احمد اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل تھا، جس نے ملزم کی جانب سے دائر اپیل پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل عالم خان ادینزئی نے عدالت کو بتایا کہ ملزم شیر محمد نے فائرنگ کرکے پروفیسر بشیر احمد کو قتل کیا۔

ان کے مطابق ملزم سکیورٹی گارڈ کے طور پر تعینات تھا اور واقعے کے دوران اس نے اپنے دفاع میں نہیں بلکہ مبینہ طور پر قاتلانہ حملہ کرتے ہوئے فائرنگ کی۔

اے اے جی کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج سے بھی واقعے کی صورتحال واضح ہوتی ہے جبکہ ملزم کے خلاف کیس میں ٹھوس شواہد موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : عدالتی حکم کی تعمیل: پی ٹی آئی مارچ کے لیے خیبرپختونخوا پولیس کی معاونت پر مکمل پابندی عائد، آئی جی آفس سے مراسلہ جاری

عدالت کو بتایا گیا کہ سیشن کورٹ پشاور نے ملزم شیر محمد کو 14 سال قید کی سزا سنائی تھی، جس کے خلاف ملزم نے پشاور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ ماتحت عدالت کی سزا کو عمر قید یا سزائے موت میں تبدیل کیا جائے۔

فریقین کے دلائل سننے اور مقدمے کا ریکارڈ دیکھنے کے بعد پشاور ہائیکورٹ نے سیشن کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ملزم شیر محمد کی اپیل خارج کردی۔

Scroll to Top