کرم: خلیل شہید پوسٹ پر 25 اور 26 ستمبر کی درمیانی شب مختلف سمتوں سے فائر ریڈ اور مبینہ جسمانی حملے کی کوشش کی گئی، تاہم پوسٹ پر موجود اہلکاروں نے حملہ پسپا کردیا۔
فراہم کردہ سیکیورٹی رپورٹ کے مطابق حملہ آور گروپ کی جانب سے کمانڈر اسد بولانی کی قیادت میں، کمانڈر رفیق کے ہمراہ، خلیل شہید پوسٹ پر مختلف سمتوں سے فائرنگ کی گئی۔ شدید جھڑپ تقریباً 3 گھنٹے جاری رہی، جس کے بعد حملہ آور مبینہ طور پر پسپا ہوگئے۔
رپورٹ کے مطابق جوابی کارروائی کے دوران حملہ آوروں کے ممکنہ واپسی کے راستوں پر گھات لگائی گئی۔ صبح کے وقت سرچ آپریشن شروع کیا گیا، جس کا مقصد علاقے میں چھپے حملہ آوروں کو تلاش کرنا تھا۔
رپورٹ کے مطابق شام 4 بجے دو مشتبہ افراد کو ایک لاش کے ساتھ گاڑی سے فرار ہوتے دیکھا گیا، جنہیں فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ بعد ازاں شام 5 بج کر 20 منٹ پر سرچ آپریشن کے دوران ایک اور حملہ آور کی لاش برآمد ہوئی۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ سرچ آپریشن کے دوران 17 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا، جن سے مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے تفتیش کی جائے گی۔
دوسری جانب شام 7 بجے خلیل شہید پوسٹ اور ڈگاری ایکس کے درمیان گولہ بارود لے جانے والی سیکیورٹی فورسز کی تین گاڑیوں پر مبینہ طور پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا۔ حملے کے بعد تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر دوبارہ فائرنگ کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: کرم سیکٹر میں افغان طالبان کی بلااشتعال فائرنگ، پاک فوج کی بھرپور جوابی کارروائی
رپورٹ کے مطابق ایک گاڑی کو آر پی جی 7 راکٹ سے نشانہ بنایا گیا، تاہم گاڑی میں موجود اہلکار محفوظ رہے اور گاڑی کے ٹائر پھٹنے کے باوجود اسے آگے لے جایا گیا۔
فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق کارروائی کے دوران مجموعی طور پر 4 لاشیں برآمد کی گئیں، جبکہ 17 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔





