اسلام آباد: پاکستان نے بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس (BSF) کی جانب سے دو پاکستانی شہریوں کی ہلاکت پر شدید احتجاج کرتے ہوئے بھارتی ناظم الامور (Chargé d’Affaires) کو وزارتِ خارجہ طلب کر لیا۔
وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بھارتی ناظم الامور کو 2 اکتوبر کو بدین سیکٹر میں بین الاقوامی سرحد کے قریب پیش آنے والے واقعے پر پاکستان کا احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کے اہلکاروں نے غیر مسلح شہریوں کے خلاف مبینہ طور پر بلااشتعال مہلک طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں دو قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ پاکستان نے جاں بحق افراد کو ’’درانداز‘‘ قرار دینے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کر دیا۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق پاکستان نے واقعے کو بنیادی انسانی حقوق بالخصوص حقِ زندگی، کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شہریوں کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی قانون کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا۔
پاکستان نے بھارتی حکام سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی فوری، شفاف اور قابلِ اعتماد تحقیقات کی جائیں، ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف مناسب محکمانہ اور قانونی کارروائی کی جائے اور تحقیقات کے نتائج اور کی جانے والی کارروائی سے حکومتِ پاکستان کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں : افغانستان میں سیاسی گرما گرمی، گلبدین حکمت یار کا افغان حکومت کیخلاف بڑا مطالبہ سامنے آ گیا
بیان کے مطابق بھارت پر زور دیا گیا کہ وہ بنیادی انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کا احترام یقینی بنائے، دوطرفہ انتظامات اور طے شدہ سرحدی طریقۂ کار کی پابندی کرے اور ایسے واقعات کی تکرار روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
پاکستان نے سرحدی معاملات سے نمٹنے کے دوران زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے پر بھی زور دیا ہے۔
وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق یہ احتجاج 3 اکتوبر 2026 کو اسلام آباد میں ریکارڈ کرایا گیا۔





