وفاقی وزیرعطا تارڑ کی پی ٹی آئی پر تنقید، مشاورت کے بیانیے کو سیاسی بچاؤ کا حربہ قرار دے دیا

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے پاکستان تحریک انصاف اور خیبر پختونخوا حکومت کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا پی ٹی آئی کا پرانا عذر اب ختم ہو چکا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے دی گئی تجاویز کا کبھی جواب نہیں دیا گیا اور اب جب خیبرپختونخوا حکومت سیاسی طور پر کمزور ہو چکی ہے تو وہ اپنی بقا کے لیے مشترکہ میکانزم کی باتیں کر رہی ہے۔

وفاقی وزیر نے الزام لگایا کہ خیبر پختونخوا حکومت کا بیانیہ اور عمل ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ ایک طرف دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے دعوے کیے جاتے ہیں جبکہ دوسری طرف ایسا بیانیہ اختیار کیا جا رہا ہے جس سے دہشت گرد عناصر کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ اس طرح کی پالیسیوں سے صوبے میں امن و امان کے بجائے معاشی اور سیاسی بحران مزید گہرا ہو رہا ہے۔

عطا تارڑ نے اہم سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت وفاقی ایپکس کمیٹی کے اجلاسوں میں شرکت سے کیوں گریزاں ہے اور اپنے صوبے میں سیکیورٹی جائزہ اجلاس کیوں منعقد نہیں کرتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ اور صوبائی کابینہ افغان سرحد پار سے ہونے والے حملوں اور دہشت گردانہ کارروائیوں پر مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

عطاتارڑ کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کے نمائندے سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے شہدا کے جنازوں میں شرکت نہیں کرتے اور نہ ہی سرحدی علاقوں میں ڈیوٹی دینے والے جوانوں کا حوصلہ بڑھاتے ہیں۔ سابق فاٹا کے علاقوں کی ترقی اور عوامی مسائل کے حل میں صوبائی حکومت نے کبھی سنجیدہ دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

عطا تارڑ نے واضح کیا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہ ہونے سے نہ صرف دہشت گردی کو فروغ ملا بلکہ خیبر پختونخوا کی معیشت بھی تباہ ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ ریاست اب کسی تاخیری حربے، جھوٹے بیانیے یا زبانی جمع خرچ کو برداشت نہیں کرے گی اور کے پی کے کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے والے رویے کا سخت محاسبہ کیا جائے گا۔

Scroll to Top