رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں مبینہ ایمرجنسی کے نفاذ کی تیاری کر لی گئی ہے،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے پاس بس اتنا اختیار ہے کہ وہ ابھی تک گرفتار نہیں ہوئے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں خیبر پختونخوا سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا کہ تحریک انصاف نے 40 لاکھ افراد لانے کا دعویٰ کیا تھا لیکن احتجاج کے حوالے سے کوئی تیاری نہیں تھی ۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے 27 تاریخ کو اس لیے پیش قدمی نہیں کی تاکہ مذاکرات کے لیے کچھ وقت مل سکے، مذاکرات کا اعلامیہ جاری ہونے والا تھا تو محمود اچکزئی سے رابطہ کیا گیا، جنہوں نے پیغام دیا کہ بانی پی ٹی آئی کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ مارچ کیلئے پورے صوبے میں ترقیاتی کام روک دیے گئے ہیں اور تمام ارکان قومی اسمبلی، ارکان صوبائی اسمبلی اور صوبائی وزرا کے فنڈز منجمد کر دیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شیر افضل مروت نے انتشاری مارچ کا پول کھول دیا
انہوں نے کہا کہ انہوں نے دعوت دی ہے کہ اگر احتجاج کے لیے آنا ہے تو 15 اکتوبر سے پہلے آ جائیں، ان کے بقول، مارچ کرنا ہوتا تو یہ لوگ اب تک نکل چکے ہوتے، انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کون سی چیز انہیں مارچ کرنے سے روک رہی ہے؟





