پشاور: خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد اگلے روز معمولاتِ زندگی بحال رہنے کی اطلاعات ہیں، سڑکوں پر ٹریفک رواں دواں ہے، کاروباری مراکز اور دکانوں میں شہریوں کی آمد جاری ہے، جبکہ موبائل فون سروسز کی بحالی سے لوگوں کو رابطوں میں بھی سہولت مل رہی ہے۔
صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت مختلف علاقوں میں شہری روزمرہ سرگرمیوں میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں۔ بازاروں اور تجارتی مراکز میں خریداری کے لیے لوگوں کی آمد جاری ہے، دکانیں کھلی ہیں اور کاروباری سرگرمیاں معمول کے مطابق آگے بڑھ رہی ہیں۔
سڑکوں پر ٹریفک کی روانی نے بھی شہریوں کو آمدورفت میں سہولت فراہم کی ہے۔کاروباری حلقوں کے لیے احتجاجی سرگرمیوں اور ممکنہ سڑکوں کی بندش سے بچاؤ اہم معاملہ ہے۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ بازاروں تک شہریوں کی رسائی اور ٹریفک کی روانی برقرار رہنے سے کاروباری سرگرمیوں کو جاری رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : بلوچستان میں دو ٹریفک حادثات، 13 افراد جاں بحق، 20 زخمی
احتجاج کے باعث کاروبار متاثر ہونے کے خدشات کے تناظر میں تاجر پُرامن ماحول اور معمولاتِ زندگی برقرار رہنے کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔
موبائل فون سروسز کی بحالی سے شہریوں کے رابطوں میں بھی بہتری آئی ہے۔ کاروباری افراد، ملازمین اور عام شہری فون کے ذریعے اپنے معمول کے امور انجام دے سکتے ہیں، جبکہ رابطوں کی سہولت کاروباری سرگرمیوں کے تسلسل کے لیے بھی اہم سمجھی جاتی ہے۔
حالیہ انتظامی اقدامات کے بعد شہریوں کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ امن و امان کی صورتِ حال برقرار رہے، سڑکیں کھلی رہیں، کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ نہ آئے اور تعلیمی و دیگر عوامی خدمات بھی جلد معمول پر آ سکیں۔
یہ بھی پڑھیں : پریزیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون، خیبرپختونخوا کے دو شہروں سے میچز منتقل کرنے کا اعلان
تاجروں اور شہریوں کے لیے پُرامن ماحول اور بلا تعطل آمدورفت روزمرہ زندگی کے تسلسل میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
مجموعی طور پر خیبر پختونخوا میں معمولاتِ زندگی جاری رہنا، کاروباری مراکز میں شہریوں کی آمد اور موبائل سروسز کی بحالی مثبت پیش رفت ہے۔
تاہم تعلیمی اداروں، امتحانات اور بی آر ٹی سروس کی صورتِ حال سے متعلق متعلقہ اداروں کے اعلانات اہم رہیں گے۔





