پشاور کے مصروف علاقے ہشتنگری میں صوبے کی سیاسی صورتحال اور گورنر راج کے نفاذ کے خلاف ہونے والے ایک مظاہرے کے دوران دلچسپ اور افراتفری کا منظر دیکھنے میں آیا جہاں پولیس کی موجودگی نے احتجاج کی ہوا ہی نکال دی۔
وائرل ہونے والی ویڈیو فوٹیج کے مطابق، کچھ افراد اور کارکنان سڑک پر کھڑے ہو کر جوش و خروش سے نعرے بازی کر رہے تھے اور سیاسی صورتحال پر غصے کا اظہار کر رہے تھے۔ تاہم جیسے ہی پولیس کی نفری لاٹھیوں اور ڈنڈوں کے ساتھ موقع پر پہنچی اور حرکت میں آئی تو وہ ’انقلابی‘ جو کچھ لمحے پہلے نعرے لگانے میں مصروف تھے، پولیس کو دیکھتے ہی فوراً گھبرا گئے اور دم دبا کر دوڑ لگا دی۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس کے پہنچنے کی دیر تھی کہ نعرے بازی کرنے والا ہجوم لمحوں میں ادھر ادھر بھاگ نکلا اور سڑک پر مکمل افرا تفری پھیل گئی جس کے بعد وہیں موجود لوگوں اور کیمروں نے اس دوڑ کی مناظر کو محفوظ کر لیا۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا میں وفاقی حکومت کی جانب سے ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیے جانے کے بعد صوبائی کابینہ کی تحلیل کے باوجود سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے آبائی ضلع خیبر میں حالات مکمل طور پر پرسکون اور کنٹرول میں ہیں۔
تازہ ترین اطلاعات اور زمینی صورتحال کے جائزہ کے مطابق سابق وزیراعلیٰ کے آبائی حجرے اور اس کے قریبی علاقوں میں فی الحال کوئی غیر معمولی نقل و حرکت، سیاسی احتجاج یا عوام کا ہجوم موجود نہیں ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی حکومت نے اہم فیصلوں کے بعد خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے صوبے کا انتظام گورنر کے سپرد کر دیا تھا جس کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صوبائی حکومت ختم ہو گئی تھی۔اس بڑے سیاسی اور انتظامی تغیر کے باوجود ضلع خیبر میں تجارتی و عوامی سرگرمیاں حسبِ معمول جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : گورنر راج نافذ ہوتے ہی وفاق کا خیبرپختونخوا کیلئے بڑا اعلان
تمام اہم بازار، تجارتی مراکز اور مارکیٹیں کھلی ہیں جبکہ شاہراہوں پر آمدورفت کا سلسلہ بغیر کسی رکاوٹ کے رواں دواں ہے جس سے علاقے میں مکمل امن و امان کی فضا برقرار ہے۔





