خیبر پختونخوا میں گورنر راج قائم ہوتے ہی سابقہ پی ٹی آئی حکومت کی 13 سالہ بدانتظامی، صحت کے شعبے میں مجرمانہ غفلت اور دور دراز اضلاع کو بنیادی طبی سہولیات سے محروم رکھنے کے بھیانک نتائج کو زائل کرنے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ ’صحت کارڈ‘ کے نام پر ڈرامے بازی کرنے والی سابقہ پی ٹی آئی حکومت کے دور میں جو نظرانداز سرکاری ہسپتال ڈاکٹروں کی شدید کمی اور انتظامی رکاوٹوں کا شکار تھے وہاں اب گورنر راج کے تحت ہنگامی بنیادوں پر اصلاحات کی جا رہی ہیں۔
اس سلسلے میں ممبر ایڈوائزری کونسل برائے صحت لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر کی زیرِ صدارت محکمہ صحت کا ایک انتہائی اہم اور اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں پی ٹی آئی کے دورِ حکومت سے التوا کا شکار کنٹریکٹ اور فکس پے بنیادوں پر ڈاکٹروں کی بھرتیوں، خالی آسامیوں اور حفاظتی ٹیکہ جات کے توسیعی پروگرام پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کے دوران ممبر ایڈوائزری کونسل نے پی ٹی آئی دور کی سست روی اور انتظامی روڑوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ہدایت کی کہ بھرتیوں کے عمل میں غیر ضروری تاخیر فوری ختم کی جائے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ بالخصوص صوبے کے دور افتادہ اور دشوار گزار اضلاع جنہیں سابقہ حکومت نے مکمل طور پر نظر انداز کر رکھا تھا، وہاں ڈاکٹروں کی فوری تعیناتی اور دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے واضح، شفاف اور مراعات سے بھرپور پالیسی بنائی جائے۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور، سکول حادثہ، مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور اور مشیر صحت نگار جوہر کی متاثرین کے گھر آمد، تعزیت اور تعاون کی یقین دہانی
اجلاس میں بچوں کو قابلِ انسداد بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ای پی آئی پروگرام کو مضبوط بنانے اور صوبے کے آخری بچے تک ویکسینیشن پہنچانے کے لیے ضروری اقدامات کا بھی حکم دیا گیا۔
عوامی حلقوں نے گورنر راج کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی 13 سالہ نااہلی کی وجہ سے صوبے کا صحت کا نظام وینٹی لیٹر پر چلا گیا تھا مگر موجودہ گورنر انتظامیہ واقعی عوامی مفاد میں بلا تاخیر عملی قدم اٹھا رہی ہے۔





