وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کسانوں کے حق میں ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے سال 2027 کے لیے گندم کی مجوزہ قیمت 4500 روپے فی من مقرر کر دی ہے۔
پیداواری لاگت اور مہنگائی میں اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے گزشتہ برس کے مقابلے میں اس بار قیمت میں پورے 1000 روپے فی من کا اضافہ کیا گیا ہے کیونکہ گزشتہ سال گندم کی قیمت 3500 روپے فی من مقرر تھی۔
وزیراعظم نے اس فیصلے کے پس منظر میں بتایا کہ اس میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور قائد محمد نواز شریف کی خصوصی رہنمائی کے علاوہ وزرائے اعلیٰ پنجاب اور سندھ کی مشاورت بھی شامل رہی ہے۔
اس سلسلے میں انہوں نے مشاورتی عمل میں بہترین تعاون فراہم کرنے پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا اور ان کے کردار کو سراہا، جبکہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے تعاون پر بھی بھرپور انداز میں اظہارِ تشکر کیا۔
حکومت کی جانب سے گندم کی قیمت میں اس اضافے کا بنیادی مقصد کاشتکاروں کو مہنگائی، پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور زرعی اخراجات کے دباؤ سے نکال کر ریلیف فراہم کرنا ہے۔
اس اقدام سے کسانوں کو نہ صرف ان کی محنت کی پوری لاگت مل سکے گی بلکہ وہ آئندہ سیزن میں گندم کی بھرپور کاشت کی طرف بھی راغب ہوں گے۔
یاد رہے کہ گزشتہ چند سالوں کے دوران کسانوں کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا اور پاکستان کو بھی اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے باہر سے گندم درآمد کرنا پڑی تھی۔
حکام کا ماننا ہے کہ گندم کی قیمت میں اس بڑے اضافے سے ملکی غذائی تحفظ کو تقویت ملے گی، مقامی سطح پر پیداوار میں اضافہ ہوگا اور زرعی معیشت مزید مستحکم ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور ہائیکورٹ کا بڑا حکم: کنٹریکٹ ملازمین کی جگہ نئی تعیناتیوں پر عبوری روک لگا دی
توقع کی جا رہی ہے کہ اس پالیسی سے کاشت کار زیادہ دلجمعی کے ساتھ گندم کی بوائی کریں گے اور سال 2027 کسانوں کی خوشحالی اور زرعی خودکفالت کا سال ثابت ہوگا۔





