(کامران علی شاہ)پشاور ہائیکورٹ نے کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی اور ان کی اسامیوں کی دوبارہ تشہیر کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے اہم عبوری حکم جاری کر دیا ہے۔
عدالت عالیہ نے بھرتی کے عمل کو جاری رکھنے کی اجازت دیتے ہوئے حتمی تعیناتی آرڈرزجاری کرنے سے روک لگا دی ہے۔
پشاور ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن پر سماعت ہوئی۔ درخواست گزاروں کی جانب سے میاں محمد عمران ایڈووکیٹ جبکہ وفاق کی نمائندگی اسسٹنٹ اٹارنی جنرل فصیح اللہ نے کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار ابتدائی طور پر کنٹریکٹ کی بنیاد پر مقرر ہوئے تھے اور وقت کے ساتھ ان کی ملازمت میں توسیع کی جاتی رہی۔
میاں محمد عمران ایڈووکیٹ نےعدالت کو آگاہ کرتے ہوئے کہاکہ ان کے بہترین اور وسیع تجربے کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے کیسز کو مستقل کرنے کے لیے سلیکشن کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔ تاہم، ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے ان ہی ملازمین کی اسامیوں کے لیے نیا اشتہار جاری کر دیا گیا ہے۔
وکیل نے مزید بتایا کہ لاہور ہائیکورٹ میں بھی اسی نوعیت کے کیس میں ملازمین کو عبوری ریلیف مل چکا ہے اور جواب طلب کیا گیا ہے۔
پشاور ہائیکورٹ نے موقف سننے کے بعد تمام فریقین کو ہدایت کی ہے کہ وہ دو ہفتوں کے اندر اپنے پیرا وائز کمنٹس عدالت میں جمع کرائیں۔
یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا پولیس میں 5 ہزار کانسٹیبل بھرتی کرنے کی منظوری
عدالت نے عبوری ریلیف دیتے ہوئے قرار دیا کہ اگرچہ بھرتی کا عمل جاری رہے گا لیکن عدالت کے اگلے حکم تک کسی کو بھی حتمی تعیناتی کا آرڈر جاری نہیں کیا جائے گا۔





