قبضہ مافیا پر گھیرا تنگ کردیا گیا، کمشنر پشاور کا 7 دن میں تجاوزات ہٹانے کا حکم !

پشاور شہر کی اہم ترین شاہراہوں اور سڑکوں پر برسوں سے قائم غیر قانونی تجاوزات اور قبضہ مافیا کے خلاف انتظامیہ نے اپنے آہنی ہاتھوں کو پوری طرح متحرک کر دیا ہے۔

ماضی کی بے حسی اور لاپرواہی کے برعکس موجودہ انتظامیہ نے شہر کا نقشہ بدلنے اور روڈز پر ٹریفک کی روانی بحال کرنے کے لیے ایسا جاندار اور سخت پلان مرتب کر لیا ہے جس سے قانون شکن عناصر میں شدید سراسیمگی پھیل گئی ہے۔

کمشنر پشاور ڈویژن کیپٹن (ر) خالد محمود کی زیرِ صدارت ہونے والے اعلیٰ سطح کے ہنگامی اجلاس میں ورسک روڈ، چارسدہ روڈ اور کوہاٹ روڈ سمیت شہر بھر کے دیگر حساس علاقوں میں رائٹ آف وے کو ہر صورت کھلا رکھنے کا حتمی فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس میں ڈپٹی کمشنر پشاورآفاق وزیر پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی ، پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی اور تمام متعلقہ ٹی ایم ایز کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی ،جہاں قبضہ مافیا کی مکمل سرکوبی کی حکمت عملی کو حتمی شکل دی گئی۔

کمشنر پشاور نے سخت ترین لہجے میں واضح ہدایات جاری کیں کہ صرف عارضی آپریشن پر اقتفا نہیں کیا جائے گا بلکہ واگزار کروائی گئی اراضی کی مکمل نگہبانی کی جائے گی تاکہ کوئی دوبارہ قبضہ کرنے کی جرات نہ کر سکے۔

منظور شدہ نقشوں سے ہٹ کر کی گئی غیر قانونی تعمیرات اور سڑکوں کی حدود پر قابض تمام عمارتوں کے خلاف بلاتفریق اور فوری طور پر سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں : صوابی کے عوام کے لیے بڑا سرپرائز: ڈپٹی کمشنر صوابی نصراللہ خان کے ایک ہی فیصلے سے موقع پر مسائل حل!

شہر کی خوبصورتی کو بحال کرنے اور ٹریفک کے سنگین مسائل حل کرنے کے لیے کمشنر آفس نے تمام متعلقہ اداروں کو 7 روز کے اندر تعمیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

مؤثر نگرانی عوامی آگاہی اور باہمی رابطہ کاری کے ذریعے سڑکوں پر مستقل شفافیت کو یقینی بنایا جا رہا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ انتظامیہ محض زبانی جمع خرچ کی بجائے عملی اقدامات پر یقین رکھتی ہے۔

Scroll to Top