وفاقی وزیر طارق فضل چودھری نے افغان حکام کی جانب سے پاکستان کے خلاف الزام تراشی مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پر لگائے گئے الزامات کی کوئی حقیقت نہیں۔
طارق فضل چودھری کا کہناہے کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن کے قیام کی بات کی ہے، تاہم افغان سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال ہوئی تو پاکستان ہر ضروری اقدام کرنے کا حق رکھتا ہے۔
طارق فضل چودھری نے کہا کہ افغان حکام افغانستان میں دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانے ختم کریں اور پاکستان میں دراندازی کا سلسلہ روکیں۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران افغان نمائندوں کو افغانستان سے ہونے والی دراندازی کے ثبوت پیش کیے گئے، تاہم افغان نمائندے دہشتگردی سے متعلق ان شواہد کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ افغان عبوری حکومت دراندازی روکنے کے لیے تیار نہیں ہوئی، جس کے باعث پاکستان کو سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان سے ہونے والی دراندازی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا اور پاکستان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: مولانا فضل الرحمان اقتدار میں حصہ نہ ملنے پر ملکی سالمیت پر حملہ آور ہیں، رانا سکندر حیات
وفاقی وزیر طارق فضل چودھری نے مزید کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے، لیکن اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ افغان حکام اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکیں۔





