پی آئی اے کی نجکاری آخری مرحلے میں، کون جیتے گا سب سے بڑی بولی؟

اسلام آباد: قومی ایئرلائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

ذرائع کے مطابق نجکاری کا عمل آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور اب الٹی گنتی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔

پی آئی اے انتظامیہ اور چاروں کنسورشیم کے آفیشلز کا سی ای او پی آئی اے اور دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ ہفتے کے روز اجلاس ہوا، جس میں خریداری میں دلچسپی رکھنے والے گروپس نے شرکت کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور اور اسلام آباد میں بھی کنسورشیم اور نجکاری کمیشن کے حکام یومیہ بنیادوں پر ریکارڈ اور تفصیلات حاصل کر رہے ہیں تاکہ بولی کی تیاری مکمل ہو۔

چاروں کنسورشیم نے پی آئی اے کی فنانس اور ایچ آر ٹیمز سے مکمل ریکارڈ حاصل کر لیا ہے، جس میں ملازمین، ملکی و بین الاقوامی پروازوں، آمدنی، پائلٹس، انجینئرز، فضائی میزبان، گراؤنڈ اسٹاف اور دیگر عملے کی تفصیلات شامل ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ پی آئی اے کے 34 طیارے اور 90 سے زائد روٹس خریداری میں شامل ہوں گے۔ سب سے زیادہ بولی لگانے والے کنسورشیم کو ایئرلائن منتقل کی جائے گی۔

اہم بات یہ ہے کہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن پی آئی اے خریدنے والے کنسورشیم کی ذمہ داری نہیں ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں : فیض حمید قومی مجرم، سرکاری وسائل ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرتے تھے،میاں جاوید لطیف

وزیراعظم سیکریٹریٹ نے بھی چاروں کنسورشیم کو مکمل تفصیلات فراہم کرنے اور تعاون کی ہدایت کی ہے۔

نجکاری کے عمل کو شفاف رکھنے کے لیے بولی میڈیا پر براہِ راست نشر کی جائے گی، جبکہ چاروں کنسورشیم 23 دسمبر کو اپنی حتمی بولی پیش کریں گے۔

یہ قدم پی آئی اے کے مستقبل میں ایک نیا دور کھول سکتا ہے، جس سے ایئرلائن کی مالی حالت بہتر اور ملکی فضائی خدمات مزید مستحکم ہونے کی توقع ہے۔

Scroll to Top